اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

امریکی وزارت خارجہ کی سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک سمیت تائیوان کو بھاری اسلحہ بیچنے کی منظوری

امریکی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کو 3000 خودکار جی بی یو-39 میزائل بیچنے کی منظوری دے دی ہے، اطلاعات کے مطابق میزائل 29 کروڑ ڈالر میں بیچے گئے ہیں۔ بروز منگل امریکی وزارت نے اس کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی 4 ارب ڈالر کا مزید اسلحہ بیچنے کی اجازت دی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی امریکی وزارت خارجہ نے کانگریس کو مطلع کیا تھا کہ وہ اتحادی ممالک کے مفاد میں سعودی عرب کو فضاء سے زمین پر وار کرنے کے قابل 7500 میزائل بیچنے میں دلچسپی رکھتا ہے، جس کے لیے 47 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کے آئندہ صدر جوبائیڈن معاہدے کو ختم کر سکتے ہیں، تام اس سے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں تعطل آ سکتا ہے۔ لیکن امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں پر مہارت رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر جوبائیڈن ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ صدر اوباما کے نائب صدر ہوتے ہوئے وہ بھی مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک بشمول سعودی عرب کو اسلحہ بیچتے رہے ہیں۔ اور اب جوبائیڈن نے نامزدکردہ وزیر دفاع بھی 2016 سے ریتھیون بورڈ کے رکن ہیں۔

امریکہ میں مختلف لابیاں مشرق وسطیٰ کو خصوصاً اور دیگر مسلم ممالک کو عموماً اسلحے کے معاہدوں کے حق اور مخالفت میں کام کرتی رہتی ہیں، سعودی عرب کے ساتھ صدر ٹرمپ کے دور میں ہونے والے اسلحے کے معاہدے پر بھی کڑی تنقید رہی ہے جس کی بڑی وجہ یمن میں جاری جنگ اور خطے کے دیگر ممالک کا امریکہ میں بڑھتا اثرورسوخ ہے۔ جبکہ اس کے حق میں بات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک کو اسلحے کی فراہمی کو روکنا نہ صرف امریکی تذویراتی مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ اس سے روسی اسلحے کے لیے رستہ بھی ہموار ہو جاتا ہے۔

خطے کے دیگر ممالک میں کویت کو اپاچی ہیلی کاپٹر اور میزائل دینے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ مصر کو ایف سولہ کے پرزوں کی فراہمی کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ وزارت خارجہ نے تائیوان کو بھی 22 ارب ڈالر کے اسلحے کی فراہمی کی منظوری دی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us