منگل, اکتوبر 19 Live
Shadow
سرخیاں
نیٹو کے 8 روسی مندوبین کو نکالنے کا ردعمل: روس نے سارا عملہ واپس بلانے اور ماسکو میں موجود نیٹو دفتر بند کرنے کا اعلان کر دیاشام اور عراق سے داعش کے دہشت گرد براستہ ایران افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں، جنگجوؤں سے وسط ایشیائی ریاستوں میں عدم استحکام کا شدید خطرہ ہے: صدر پوتنآؤکس بین الاقوامی سیاست میں کشیدگی و عدم استحکام بڑھانے اور اسلحے کی نئی دوڑ کا باعث ہو گا: چین اور مشرقی ممالک کے خلاف مغرب کے نئے عسکری اتحاد پر روسی ردعملایف بی آئی نے خفیہ کارروائی میں جوہری آبدوز ٹیکنالوجی بیچتے دو فوجی انجینئر گرفتار کر لیےامریکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیوں میں چین سے 15/20 سال پیچھے ہے: پینٹاگون سافٹ ویئر شعبے کے حال ہی میں مستعفی ہونے والے سربراہ کا تہلکہ خیز انٹرویوروسی محققین کووڈ-19 کے خلاف دوا دریافت کرنے میں کامیاب: انسانوں پر تجربات شروعسابق افغان وزیردفاع کے بیٹے کی امریکہ میں 2 کروڑ ڈالر کے بنگلے کی خریداری: ذرائع ابلاغ پر خوب تنقیدہمارے پاس ثبوت ہیں کہ فرانسیسی فوج ہمارے ملک میں دہشت گردوں کو تربیت دے رہی ہے: مالی کے وزیراعظم مائیگا کا رشیا ٹوڈے کو انٹرویوعالمی قرضہ 300کھرب ڈالر کی حدود پار کر کے دنیا کی مجموعی پیداوار سے بھی 3 گناء زائد ہو گیا: معروف معاشی تحقیقی ادارے کی رپورٹ میں تنبیہامریکہ میں رواں برس کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2020 سے بھی بڑھ گئی: لبرل امریکی میڈیا کی خاموشی پر شہری نالاں، ریپبلک کا متعصب میڈیا مہم پر سوال

امریکہ: روس اور چین کے خلاف پراپیگنڈا کے لیے 60 کروڑ ڈالر کا منصوبہ منظور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ اور ایشیا میں بڑھتے روسی اور چینی اثرورسوخ کو روکنے کے لیے 60 کروڑ ڈالر کے خصوصی پراپیگنڈا منصوبے کااعلان کیا ہے۔ منصوبے کے جواز میں واضح طور یورپ اور ایشیا میں بڑھتے چینی اور روسی اثرورسوخ کو کم کرنا اور جمہوری روایات کو ابھارنا بیان کیا گیا ہے۔

منصوبے کی منظوری کورونا اخراجات کے ساتھ بطور ذیلی قانون دی گئی ہے۔ منصوبے پر متعدد مقامی حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے عوام کو فی کس صرف 600 ڈالر دیے جا رہے ہیں لیکن چھپکلیوں کی دوڑ، اور دنیا میں دیگر اقوام کے خلاف پراپیگنڈے پر کروڑوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اس کے علاوہ اور اس سے پہلے بھی روس کے خلاف پراپیگنڈے پر سالانہ کروڑوں ڈالر خرچ کرتا ہے، اور 29 کروڑ کا ایک خصوصی منصوبہ روسی اثرورسوخ کو کم کرنے کے نام سے پہلے بھی چل رہا ہے۔ جس کا خصوصی نشانہ براعظم ایشیا اور یورپ ہیں، تاہم دونوں براعظوں کے سرحدی ممالک خصوصاً وسط ایشیائی مسلم ریاستوں کو بطور خاص نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یاد رہے کہ امریکی حکومت اپنی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ذریعے انٹرنیٹ سروس کے سستے منصوبوں کو متعارف کروا کر بھی سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے میں لگی رہتی ہے تاہم ماضی قریب میں سماجی میڈیا پر دیگر ممالک کے مواد کو روکنے اور خصوصی سنسرشپ نے جمہوریت کے پراپیگنڈے کی قلعی کھول دی ہے، جس پر امریکہ نے نئے حربے شروع کر دیے ہیں۔

خبر کی تفصیل کے مطابق 60 کروڑ کے منصوبے میں سے 2 کروڑ جمہوریت کے پرچار، عوامی حقوق، سول سوسائٹی کے تحفظ، اور آزاد ذرائع ابلاغ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ منصوبے میں یورپ میں بڑھتی صیہونی نفرت کو روکنے کے لیے بھی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ چینی حکومت اور جماعت کے خلاف پراپیگنڈے کے لیے الگ سے 30 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ منصوبے پر تبصرے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ چین ہماری عوام اور خوشخالی کے لیے خطرہ بن چکا ہے، اور اسے روکنے کے لیے اس نسل کو بہت تگ و دو کرنا پڑے گی۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو امریکی وزیر خارجہ پہلے ہی آزادی پسندوں کے خلاف ایک خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ مقامی میڈیا سے گفتگو میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے بہت سے لوگ امریکی طرز زندگی اور جمہوری روایات چھیننا چاہتے ہیں، روس اور چین ان میں سرفہرست ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے کورونا کے امدادی منصوبے کی رقم بڑھانے کی غرض سے دو ہفتے قبل اسی منصوبے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا، صدر ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ رقم کو کم ازکم 2500 ڈالر ہونا چاہیے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us