اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی دوسری تحریک کی منظوری

امریکہ میں ڈیموکریٹ کی صدر ٹرمپ سے نفرت اپنے عروج پر ہے. ایوان نمائندگان نے ریپبلک صدر کے مواخذے کے لیے ایک نیا مسودہ جمع کروایا ہے اور اس پہ بحث کی منظوری بھی دے دی ہے۔ مواخذے کی قرارداد ایسے وقت میں آئی ہے جب صدر ٹرمپ کے اقتدار میں صرف چند روز ہی باقی بچے ہیں۔ اسپیکر ایوان نمائندگان نینسی پلوسی نے اظہار خیال میں کہا ہے کہ ٹرمپ ایک خطرناک انسان ہے اسکا مواخذہ ضرور ہونا چاہیے اور اسے سزا بھی ملنی چاہیے۔

مواخذے کی تحریک میں صدر پر عوام کو ورغلانے اور بغاوت کے الزام کا سامنا ہو گا، جس کا تناظر کیپیٹل ہل پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کا دھاوا بولنا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اقتدار کا سورج ڈوبتا دیکھ بعض ریپبلک ارکان نے بھی صدر کا ساتھ چھوڑ دیا ہے تاہم اکثریت کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں مواخذے سے ملک میں سیاسی تفریق میں اضافہ ہو گا۔ دوسری طرف ڈیموکریٹ ارکان بل کی حمایت میں زوروشور سے مہم چلا رہے ہیں۔

اس سے قبل ڈیموکریٹ اراکین نے نائب صدر پر 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کو نفسیاتی مریض قرار دے کر عہدہ سنبھالنے کی دعوت دی تھی تاہم نائب صدر نے ایسے کسی عمل میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

یہاں یہ بھی اہم ہے کہ مواخذے کی قرارداد پر تکنیکی طور پر سینٹ میں تفصیلی بحث مشکل ہے، کیونکہ سینٹ کا آئندہ اجلاس 19 جنوری کو ہو گا، اور 20 جنوری کو آئندہ صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری ہے۔ تاہم سینٹ کے نئے سربراہ چک شمر صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اس سے قبل بھی اجلاس طلب کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں موجودہ سربراہ مچ میک کونل کی حمایت درکار ہو گی۔ امریکی نشریاتی اداروں کا دعویٰ ہے کہ مچ میک کونل مواخذے کے حق میں ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us