منگل, دسمبر 7 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

ہندوستان میں کسان احتجاج شدت اختیار کر گیا: مشتعل مظاہرین لال قلعے پر چڑھ دوڑے، خالصتان کا جھنڈا قومی عمارت پر لہرا دیا

ہندوستان میں پنجابی کسانوں کا نئی زراعت پالیسیوں کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ احتجاج میں اب دیگرعلاقوں کے کسانوں نے بھی شمولیت اختیار کر لی ہے۔ آج ہندوستانی یوم جمہوریہ پر مشتعل مظاہرین نے دارلحکومت دہلی میں لال قلعے پر دھاوا بول دیا جس پر دنیا بھر میں خبر کو جگہ ملی۔

آج کسانوں نے ٹینکوں کے مقابلے میں ٹریکٹر مارچ منعقد کیا اور روائیتی اسلحے سے لیس ہو کر دہلی داخل ہوئے۔ راستے میں پولیس اور خصوصی افواج نے رستہ روکنے کی بہت کوشش کی اور گولی بھی چلی لیکن مشتعل مظاہرین لال قلعے پر چڑھ دوڑے۔

مقامی میڈیا کے مطابق آج دہلی میں انٹرنیٹ سروس بند تھی جس کے باعث صورتحال کی فوری اطلاعات عالمی میڈیا پر نہ آسکیں، لیکن شام کو ہندوستان کی پولیس اور فوج کا تماشہ پوری دنیا کے ابلاغیات پر دیکھا گیا۔

یاد رہے کہ کسانوں کا احتجاج پچھلے دو ماہ سے جاری ہے لیکن مودی سرکار اس پر توجہ نہ دے رہی تھی، جس کے باعث آج اہم قومی دن پر شہری بپھر گئے اور اہم قومی عمارت پر علاقائی اور علیحدگی پسند تحریکوں کے جھنڈے لہرا دیے۔

پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال بھی کیا لیکن اس سے مظاہرین مزید مشتعل ہو گئے اور ساتھ لائی کرینوں اور ٹریکٹروں سے تمام رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے لال قلعے پر تحریکوں کے جھنڈے لہرا دیے۔

وزیراعظم مودی قلعے کی دیواروں میں دبکے بیٹھے رہے اور قوم سے مختصر خطاب کر کے رفو چکر ہو گئے۔

اس موقع پر مظاہرین کے رہنما سکھ دیو سنگھ کا کہنا تھا کہ اب مودی کو ہماری طاقت کا اندازہ ہوا ہو گا، اور اب وہ ہمارے طالبات کو ضرور سنے گا۔ ہم مارکیٹ کے بیوپاریوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی نہیں بنیں گے، کسانوں کو اپنی محنت کا پورا حق چاہیے۔

حکومت نے نئے قوانین پر عملدرآمد 18 ماہ کے لیے روک دیا ہے لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو قوانین واپس لینا ہوں گے۔ یہ ہماری زندگی اور موت کا سوال ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں تقریباً آدھی آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے، اور مودی سرکارعالمی کمپنیوں کو نوازنے کے لیے کسانوں کی حق تلفی کے قوانین متعارف کروا رہی ہے، جس کے باعث کسان شدید نالاں ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us