ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

رپٹلی 2020 میں دنیا کی مقبول ترین ویڈیو خبر رساں ایجنسی رہی

رشیا ٹوڈے کی ویڈیو خبر رساں ایجنسی رپٹلی 2020 میں دنیا بھر کی سب سے مقبول ایجنسی رہی ہے۔ رپٹلی نے یو ٹیوب پر اے ایف پی، رائیٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر مقبول ایجنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دنیا بھر میں اہم ترین واقعات کی فوٹیج کے لیے مقامی ٹی وی چینلوں اور صارفین نے بھی رپٹلی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

آن لائن ویڈیو کی مقبولیت ماپنے والے ادارے ٹیبیولر لیب کے شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق رپٹلی نے 2020 میں سب سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی، جس کے یوٹیوب چینل کا سال بھرمیں 42 کروڑ 90 لاکھ سے زائد افراد نے دورہ کیا۔ جبکہ اسکے مدمقابل یا دوسرے نمبر پر رہنے والی ویڈیو ویب سائٹ یون ہیپ کے صارفین کی تعداد 36 کروڑ 70 لاکھ تھی۔

رپٹلیی کے ڈیجیٹل مواد کے ذمہ دار دمتری کیشیشیو کا کہنا ہے کہ ان سے دنیا بھر میں ہونے والے واقعات کی فوری ویڈیو کی طلب کی جاتی ہے۔ ایسے میں ہمارے صحافی اور عملے کے دیگر افراد بہت دل جمی سے کام کرتے ہیں، رپٹلی اسی عنصر کو مدنظر رکھتے ہوئے معیاری کام کو پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگرچہ وباء اور بعض مقامات پر حکومتی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے لیکن ہمارے صحافی اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں اور معیاری مواد کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کام کرتے ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق رپٹلی کی 2020 میں سب سے زیادہ دیکھی گئی ویڈیو بیروت دھماکے کے دوران کلیسے میں شادی کی تقریب کے دوران بنائی ایک ویڈیو ہے۔ جسے 50 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔

سن 2013 میں متعارف کروائی گئی ویڈیو خبر رساں ایجنسی رپٹلی کا مرکزی دفتر برلن میں ہے، اور اس کے ساتھ 3000 سے زائد صحافی وابستہ ہیں، صحافی دنیا بھر میں ہونے والے واقعات کی براہ راست تشہیر کے ساتھ ساتھ خصوصی خبریں بھی مہیا کرتے ہیں۔ رپٹلی کے مواد کے مستقل خریدار ٹی وی چینلوں کی تعداد 1700 سے زائد ہے۔ رپٹلی نے 2019 میں آن لائن تربیت کا ایک منصوبہ بھی شروع کیا تھا، جو آزاد صحافیوں کے لیے بڑا مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us