ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

رپٹلی 2020 میں دنیا کی مقبول ترین ویڈیو خبر رساں ایجنسی رہی

رشیا ٹوڈے کی ویڈیو خبر رساں ایجنسی رپٹلی 2020 میں دنیا بھر کی سب سے مقبول ایجنسی رہی ہے۔ رپٹلی نے یو ٹیوب پر اے ایف پی، رائیٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر مقبول ایجنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دنیا بھر میں اہم ترین واقعات کی فوٹیج کے لیے مقامی ٹی وی چینلوں اور صارفین نے بھی رپٹلی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

آن لائن ویڈیو کی مقبولیت ماپنے والے ادارے ٹیبیولر لیب کے شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق رپٹلی نے 2020 میں سب سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی، جس کے یوٹیوب چینل کا سال بھرمیں 42 کروڑ 90 لاکھ سے زائد افراد نے دورہ کیا۔ جبکہ اسکے مدمقابل یا دوسرے نمبر پر رہنے والی ویڈیو ویب سائٹ یون ہیپ کے صارفین کی تعداد 36 کروڑ 70 لاکھ تھی۔

رپٹلیی کے ڈیجیٹل مواد کے ذمہ دار دمتری کیشیشیو کا کہنا ہے کہ ان سے دنیا بھر میں ہونے والے واقعات کی فوری ویڈیو کی طلب کی جاتی ہے۔ ایسے میں ہمارے صحافی اور عملے کے دیگر افراد بہت دل جمی سے کام کرتے ہیں، رپٹلی اسی عنصر کو مدنظر رکھتے ہوئے معیاری کام کو پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگرچہ وباء اور بعض مقامات پر حکومتی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے لیکن ہمارے صحافی اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں اور معیاری مواد کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کام کرتے ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق رپٹلی کی 2020 میں سب سے زیادہ دیکھی گئی ویڈیو بیروت دھماکے کے دوران کلیسے میں شادی کی تقریب کے دوران بنائی ایک ویڈیو ہے۔ جسے 50 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔

سن 2013 میں متعارف کروائی گئی ویڈیو خبر رساں ایجنسی رپٹلی کا مرکزی دفتر برلن میں ہے، اور اس کے ساتھ 3000 سے زائد صحافی وابستہ ہیں، صحافی دنیا بھر میں ہونے والے واقعات کی براہ راست تشہیر کے ساتھ ساتھ خصوصی خبریں بھی مہیا کرتے ہیں۔ رپٹلی کے مواد کے مستقل خریدار ٹی وی چینلوں کی تعداد 1700 سے زائد ہے۔ رپٹلی نے 2019 میں آن لائن تربیت کا ایک منصوبہ بھی شروع کیا تھا، جو آزاد صحافیوں کے لیے بڑا مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us