ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

فضائی آلودگی سانس کے علاوہ بینائی کے مسائل کی بڑی وجہ بن رہی ہے، 2040 تک 30 کروڑ افراد فضائی آلودگی کے باعث بینائی کھو سکتے ہیں: تحقیق

ایک نئی تحقیق میں ان مفروضات کی توثیق ہوئی ہے کہ صنعتی ممالک میں فضائی آلودگی کے باعث آنکھوں کی بینائی مستقل طور پر ضائع ہو سکتی ہے۔

ایک لاکھ پندرہ ہزار افراد پر کی گئی تحقیق کو ایک معروف تحقیقی جریدے میں شائع کیا گیا ہے، جس کے مطابق ماضی قریب میں بینائی کھو دینے والے افراد میں تقریباً 15 سال قبل فضائی آلودگی کے باعث معمولی مسائل کا آغاز ہوا تھا، تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ مسائل میں بڑھتی عمر کے علاوہ ہوا میں موجود خصوصی آلودگی کے ذرات کا بڑا کردار ہے۔

اس کے علاوہ آنکھوں میں آلودگی والے ذرات کی موجودگی میں خون کی گردش کے بڑھنے اور کم ہونے سے بھی بینائی پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔

تحقیق سے محققین نے نتائج اخذ کیے ہیں کہ فضائی آلودگی آنکھوں کے مسائل میں بڑی وجہ بن رہی ہے اور 2040 تک دنیا میں 30 کروڑ افراد اس سے متاثر ہوں گے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ٹریفک کی آلودگی، فضاء میں نائیٹرس آکسائیڈ کی بڑھتی سطح اور فضاء میں دیگر آلودہ عناصر گھروں میں بھی فضاء کو آلودہ کیے ہوئے ہے، ایسے میں مستقبل قریب میں بصری مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔

اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضائی آلودگی سے سالانہ کم از کم 70 لاکھ افراد موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں۔ یعنی اگر کوئی تنفس کے مسائل سے بچ بھی جائے تو بصری مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us