Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

فضائی آلودگی سانس کے علاوہ بینائی کے مسائل کی بڑی وجہ بن رہی ہے، 2040 تک 30 کروڑ افراد فضائی آلودگی کے باعث بینائی کھو سکتے ہیں: تحقیق

ایک نئی تحقیق میں ان مفروضات کی توثیق ہوئی ہے کہ صنعتی ممالک میں فضائی آلودگی کے باعث آنکھوں کی بینائی مستقل طور پر ضائع ہو سکتی ہے۔

ایک لاکھ پندرہ ہزار افراد پر کی گئی تحقیق کو ایک معروف تحقیقی جریدے میں شائع کیا گیا ہے، جس کے مطابق ماضی قریب میں بینائی کھو دینے والے افراد میں تقریباً 15 سال قبل فضائی آلودگی کے باعث معمولی مسائل کا آغاز ہوا تھا، تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ مسائل میں بڑھتی عمر کے علاوہ ہوا میں موجود خصوصی آلودگی کے ذرات کا بڑا کردار ہے۔

اس کے علاوہ آنکھوں میں آلودگی والے ذرات کی موجودگی میں خون کی گردش کے بڑھنے اور کم ہونے سے بھی بینائی پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔

تحقیق سے محققین نے نتائج اخذ کیے ہیں کہ فضائی آلودگی آنکھوں کے مسائل میں بڑی وجہ بن رہی ہے اور 2040 تک دنیا میں 30 کروڑ افراد اس سے متاثر ہوں گے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ٹریفک کی آلودگی، فضاء میں نائیٹرس آکسائیڈ کی بڑھتی سطح اور فضاء میں دیگر آلودہ عناصر گھروں میں بھی فضاء کو آلودہ کیے ہوئے ہے، ایسے میں مستقبل قریب میں بصری مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔

اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضائی آلودگی سے سالانہ کم از کم 70 لاکھ افراد موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں۔ یعنی اگر کوئی تنفس کے مسائل سے بچ بھی جائے تو بصری مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

sixteen − six =

Contact Us