Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

روسی صدر کا ایک بار پھر سوشل میڈیا کمپنیوں کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار: امریکی ابلاغی ٹیکنالوجی کمپنیاں فیصلہ کر رہیں کہ انسان کیا سوچیں اور کیا کہیں

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی ابلاغی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے متعصب رویے سے متعلق شدید تٖحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنیاں خود فیصلہ کر رہی ہیں کہ کیا شائع کیا جائے اور کیا نہیں، وہ صرف اپنے نظریاتی مفاد کو دیکھ رہی ہیں اور انہیں اس چیز کی بالکل پرواہ نہیں ہے کہ اس رویے سے دوسروں کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے۔

صدر پوتن کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کو کاروبار سے مطلب ہوتا ہے، اور وہ صرف منافع کمانا چاہتی ہیں، انہیں اس چیز کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے کہ کون کیا شائع کر رہا ہے، لیکن کمپنیاں لوگوں کی سوچ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی طرف جا رہی ہیں۔

صدر پوتن کا مزید کہنا تھا کہ پہلے کسی خاص مواد پہ اعتراضات ہوتے تھےلیکن اب کمپنیاں انسانی آزادی کے فیصلے کر رہی ہیں، کمپنیاں فیصلہ کر رہی ہیں کہ کون کیا سوچیں اور کیا کہیں۔

روسی صدر سابق امریکی صدر کا ٹویٹر کھاتہ بند ہونے پر مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور امریکی لبرل ابلاغی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو انسانی آزادیوں کے لیے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ روسی دفتر خارجہ نے معاملے کو سائبر دنیا کے ایٹمی حملے سے گرانا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

three × 3 =

Contact Us