پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

چین کی ایک بار پھر سرحدی خلاف ورزی پر امریکہ کو دھمکی: علاقائی مسائل میں مداخلت سے اشتعال نہ دلایا جائے ورنہ سخت ردعمل اور تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں

چین نے امریکہ کو تنبیہ کی ہے کہ تائیوان اور چینی پانیوں سے دور رہے ورنہ چین سخت ردعمل سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وینگ وینبن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چین اپنی حدود میں امریکی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ چین کو اشتعال دلانے کے مترادف ہے، اسے نہ روکا گیا تو چین سختی سے جواب دے گا، خود مختاری اور علاقائی حدود پر سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو علاقائی سلامتی کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ عدم استحکام کے حالات پیدا کرنے کی۔ واضح رہے کہ چینی ردعمل چینی حدود کے قریب امریکی جنگی بحری جہازوں کی سرگرمیوں کے باعث سامنے آیا ہے۔

دوسری طرف امریکہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی بحری جہاز چینی علاقے میں نہیں تھا، امریکہ بحیرہ ہند و الکاہل کے علاقے کو کسی قومی حق سے آزاد سمجھتا ہے، امریکی جہاز معمول کے دورے پر تھا، اور اس نے کوئی بین الاقوامی قانون نہیں توڑا۔

واضح رہے کہ چین امریکہ پر تائیوان اور دیگر علاقوں کے حوالے سے دباؤ ڈالتا رہتا ہے کہ انہیں چین کی خود مختاری کا مسئلہ سمجھا جائے۔ چینی مؤقف ہے کہ یہ علاقے چین کا حصہ تھے جنہیں نو آبادیاتی دور میں الگ کیا گیا، لہٰذا آج نہیں تو کل یہ علاقے دوبارہ چین کا حصہ بن جائیں گے اور چینی تہذیب ایک بار پھر عروج پائے گی۔ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ چین کے علاقائی مسائل میں مداخلت سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا اور امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں، لہٰذا امریکہ علاقائی مسائل میں مداخلت سے گریز کرے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us