منگل, دسمبر 7 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

میڈیا پر بندشوں کے ماحول کی نسبت کیا یوکرین کے شہریوں کے لیے بہتر نہیں کہ ملک روس میں ضم ہو جائے: یوکرینی صحافی کے سوال پر حکومت کا غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ

یوکرین کی حکومت نے ایک مقامی صحافی علیونا بیریزووسکایا پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقدمہ مقامی صحافی کے ریاست کے وجود پر سوال کے ردعمل پہ قائم کیا جائے گا۔ علیونا نے ملک میں حزب اختلاف کے ایک رہنما وکتر میدویدچک کے انٹرویو میں سوال اٹھایا تھا کہ (ملکی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے) کیا یہ یوکرین کے شہریوں کے لیے بہتر نہیں کہ ہم روس میں ضم ہو جائیں، اور یہ ہمارے لیے مشکل بھی نہ ہو گا۔

سوال پر بہت سے حلقوں، خصوصاً لبرل حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا جس پر حکومت نے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی وکیل کا کہنا ہے کہ علیونا کے معاملے کے بارے میں معلومات جمع کیا جارہی ہیں، اور دیکھا جا رہا ہے کہ اس نے کیسے ملک کی پہچان اور خودمختاری پر سوال اٹھائے؟ اور اس پر کیا قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔

حکومتی ردعمل پر علیونا کا کہنا ہے کہ مغربی دباؤ میں حکومت ان پر غداری کا مقدمہ چلا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین نے مغربی ایماء پر متعدد نشریاتی اداروں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے، گزشتہ ہفتے بھی صدر ولادیمیر زیلینسکی کے متعارف کردہ نئے قوانین کے تحت 8 مقامی نشریاتی اداروں کی نشریات بند کردی گئی تھیں۔

حکومتی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے صدر کے مشیر کا کہنا تھا کہ معاملے کا آزادی رائے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ حزب اختلاف کے منفی اور جھوٹے پراپیگنڈے کے خلاف اٹھایا گیا ضروری قدم تھا، اور اگر یہ قدم نہ اٹھایا جاتا تو بیرونی ہاتھوں میں کھیلنے والے سیاستدان اور میڈیا ہماری اقدار کو تباہ کر دیں۔

یہاں اس سے بھی دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی سفارت خانے نے بھی آزادی رائے کی حمایت کے بجائے یوکرین کے حکومتی اقدام کی ستائش کی ہے، اور کہا ہے کہ اس سے یوکرین کو روسی اثرورسوخ کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی، اور ایسا کرنا یوکرین کا حق ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us