ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

مودی سرکار ٹویٹر پر برہم: لال قلعے پر دھاوا بولنے والوں کے خلاف کیپیٹل ہِل جیسا تعاون نہیں کیا گیا، امریکی سماجی میڈیا کمپنیاں متعصب قرار

ہندوستان کے وزیر برائے ٹیکنالوجی نے امریکی سماجی میڈیا ویب سائٹ ٹویٹوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے، اسمبلی میں خطاب کے دوران روی شنکر کا کہنا تھا کہ ویب سائٹیں امریکہ اور باقی دنیا کے لیے مختلف معیار رکھتی ہیں، امریکہ میں کیپیٹل ہل پر دھاوا بولا گیا تو تمام ویب سائٹیں متحد ہو کر ملکی مفاد میں چل پڑیں لیکن جب ہندوستان میں کسانوں نے لال قلعے پر دھاوا بولا تو ویب سائٹوں نے مختلف معیار اپنایا اور مقامی قوانین کا ساتھ نہ دیا۔ ہندوستانی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ بلکہ ٹویٹر اور فیس بک پر کسان احتجاج کو مزید اچھالا گیا اور دنیا بھر میں ہندوستان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔

ہندوستانی وزیر نے قومی اسمبلی سے خطاب میں مزید کہا کہ ٹویٹر، فیس بک، لِنکڈان اور وٹس ایپ کو ہندوستان میں کام کرنے کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں لیکن انہیں ہندوستان کے آئین اور مقامی قوانین کی پیروی کرنا ہو گی۔

ہندوستانی وزیر کے ناراضگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ٹویٹر نے ہندوستان کی حکومت کی درخواست پر 1000 کھاتوں کو بند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہندوستان سرکار نے ٹویٹر سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ کھاتے کسان احتجاج سے متعلق غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، اور عوام کو حکومت کے خلاف بغاوت کے لیے اکسا رہے ہیں، درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ دہلی میں لال قلعے پر حملے کے لیے بھی انہی کھاتوں سے مہم چلائی گئی تھی، لہٰذا کمپنی انہیں بند کر دے۔

ہندوستان نے مثبت جواب نہ آنے پر امریکی کمپنی کے ملک میں نمائندگان کو جرمانے اور سزا کی دھمکی بھی دی ہے تاہم ٹویٹر انتظامیہ نے تاحال کوئی خاص کارروائی نہیں کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی نے 100 کے نزدیک کھاتوں کے پیغامات کو روک دیا ہے تاہم مودی سرکار کے مطالبے کے مطابق کسی بھی سخت اقدام سے گریز کیا ہے۔

کمپنی کا مؤقف ہے کہ صارفین میں سے کسی نے بھی ہندوستان کے قانون کو نہیں توڑا۔

تاہم مودی کابینہ کا کہنا ہے کہ ٹویٹر انتطامیہ نے کیپیٹل ہل اور لال قلعے پر دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا۔ اسمبلی میں وزیر ٹیکنالوجی کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کیپیٹل ہل پر ٹویٹر مختلف ردعمل کا مظاہرہ کرے اور لال قلعے پر مخلتف رویے کا؟ امریکی کمپنیوں کو دوہرا معیار ختم کرنا ہو گا۔

یاد رہے کہ کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے پر ٹویٹر نے ملک کے صدر (ڈونلڈ ٹرمپ) سمیت 70 ہزار سے زائد کھاتوں کو مستقبل بند کر دیا تھا، پولیس سے مکمل تعاون اور ملوث افراد کی نشاندہی میں انتظامیہ کی مدد بھی کی تھی۔ جس پر ہندوستانی انتظامیہ لبرل ٹیکنالوجی کمپنی سے سخت نالاں ہے کہ سماجی میڈیا کمپنیوں نے لال قلعے پر حملے کے خلاف مودی سرکار سے تعاون نہیں کیا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us