ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

لندن پولیس افسر کے ہاتھوں جوان خاتون کا مبینہ اغواء اور قتل: ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، پرتشدد مظاہرے شروع

لندن میں 33 سالہ خاتون سارہ ایورریڈ کے اغواء اور قتل پر ملک بھرمیں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مبینہ ملزم لندن پولیس کا افسر ہے جسے محکمے نے حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں، پولیس کو سارہ کی لاش کے ٹکرے قریبی جنگل سے مل گئے ہیں۔

خبر کے شائع ہوتے ہی ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، تاہم پولیس کورونا تالہ بندی کے باعث مظاہرین کو زدوکوب کر رہی ہے۔

معاملے پر خواتین تنظیموں کی جانب سے بڑے مظاہروں کا انتظام کیا جا رہا ہے، جبکہ میڈیا سے گفتگو میں خواتین خود کو ملک میں غیرمحفوظ قرار دے رہی ہیں۔ دوسری طرف سماجی حلقے پولیس تشدد پر سخت غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us