منگل, دسمبر 7 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

برطانیہ کا یونانی آثار قدیمہ واپس کرنے سے صاف انکار: امریکی دھمکی بھی کام نہ آئی

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے یونان کی جانب سے آثار قدیمہ کے مجسمے واپس لینے کی امیدوں کو توڑتے ہوئے مجسمے واپس دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پارتھینان/ایلگس مجسمے ایتھنز کے آثار قدیمہ ہیں، جنہیں 5ویں صدی قبل مسیح میں بنایا گیا تھا۔ مجسموں پر برطانیہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں 19ویں صدی عیسوی میں برطانیہ نے باقائدہ قانونی طور پر حاصل کیا تھا، لہٰذا یونان کا اب ان پر کوئی حق نہیں ہے۔ تاہم یونان اس مؤقف سے متفق نہیں ہے اور مجمسموں کی حوالگی کے لیے ملکی قیادت اکثر برطانیہ پر دباؤ ڈالتی رہتی ہے۔

حال ہی میں یونانی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں بورس جانسن نے ان تمام امیدوں کو توڑ دیا اور کہا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ یونانیوں میں ان آثار قدیمہ کے حوالے سے جذبات پائے جاتے ہیں، لیکن یاد رہنا چاہیے کہ مجسمے لندن عجائب گھر کی قانونی ملکیت ہیں، اور مجسموں کی ملکیت کے حوالے سے برطانوی مؤقف نیا نہیں ہے، حکومت اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ بریگزٹ معاہدے پر گفتگو کے دوران بھی یہ مجسمے اہم موضوع بنے رہے، یورپی نمائندگان مسلسل برطانیہ سے مجسموں کی یورپی اتحادی ملک کو واپسی کا مطالبہ کرتے رہے، تاہم برطانیہ نے معاملے کو یورپی نمائندگان سے لاتعلق کہتے ہوئے معاملے پر گفتگو سے ہی انکار کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ برطانیہ نے یونانی مجسمے سلطنت عثمانیہ کے دور میں عثمانیوں سے لیے تھے، لیکن یونانیوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے انہیں چُرایا تھا، جبکہ برطانوی دعویٰ ہے کہ اس نے مجسموں کو باقائدہ قانونی طریقے سے لیا تھا، اور مجسمے اب برطانیہ کی ملکیت ہیں۔

معاملہ اب بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، امریکہ نے بھی ستمبر 2020 میں مداخلت کرتے ہوئے برطانیہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر برطانیہ نے یونان کو مجسمے واپس نہ کیے تو دونوں ممالک کے تعلقات پر اس کا بُرا اثر پڑے گا۔ صدر ٹرمپ کے دور میں 18 سے زائد ایوان نمائندگان نے برطانوی وزیراعظم کو خصوصی خط میں مجسموں کی واپسی کا کہا تھا۔

برطانوی انتظامیہ نے امریکی دھمکی کو بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا، تاہم دوسری طرف امریکہ نے بھی اب تک دھمکی کے مطابق کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us