ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

امریکی فوجی قزاق ہیں، امریکہ شام سے یومیہ ڈیڑھ لاکھ بیرل تیل چوری کر رہا، عالمی عدالت جائیں گے: وزیر پیٹرولیم بسام طمعہ

شامی وزیر پٹرول نے ایک بار پھر ملک میں تعینات امریکی فوجیوں کے تیل چوری کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر بسام طمعہ کا کہنا تھا کہ ملک کے شمال مشرقی علاقے میں مختلف ملیشیاؤں کی مدد سے امریکی فوجی تیل چُرا رہے ہیں جس سے ملکی معیشت کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ شامی وزیر نے امریکی فوجیوں کو بحری قزاق بھی قرار دیا۔

شامی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ جتنی لوٹ مار شام میں جنگ کے دوران ہوئی اتنی کہیں نہیں ہوئی، شام کو خود اپنے وسائل استعمال کرنے سے روکا جا رہا ہے، اور اس کے علاوہ بنیادی اشیاء ضرورت کو بھی ملک میں پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔

شامی وزیر نے امریکی حملے کے باعث ملک کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صرف تیل کی صنعت کو 92 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، اور اب بھی ملک کے 90٪ تیل کے ذخائر پر امریکہ کا قبضہ ہے۔

بسام طمعہ نے گزشتہ ماہ ایک لبنانی اخبار سے گفتگو میں انکشاف کیا تھا کہ امریکی حمایت یافتہ ملیشیا ملک سے یومیہ ایک لاکھ 40 ہزار بیرل تیل چوری کرتا ہے، اور اسے ٹینکروں کے ذریعے عراق بھیج دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ شام میں 900 امریکی تاحال تعینات ہیں اور وہ تیل سے مالا مال علاقے پر قابض ہیں، جہاں وہ مقامی ملیشیا کی مدد سے تیل دیگر ممالک کو بیچتے ہیں۔ امریکہ کی غیر قانونی تعیناتی اور مداخلت پر شامی اعتراض کو امریکہ ہمیشہ داعش کے بہانے مسترد کر دیتا ہے۔ امریکی مؤقف ہے کہ اگر امریکہ علاقہ خالی چھوڑ دے گا تو داعش وہاں سے مالی فائدہ اٹھائے گی۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دور اقتدار میں واضح طور پر شام سے ماہانہ 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا تیل حاصل کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں، امریکی صدر نے اس پر قابض رہنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ امریکی صدور بشار الاسد کے حامی بھی رہے ہیں، اور شام سے تیل کی فروخت کو فوجیوں کی تعیناتی کا خرچہ گردانتے رہے ہیں۔

امریکہ نے شام سے تیل نکالنے کے لیے زبردستی ایک اپنی کمپنی کو ٹھیکہ بھی دے رکھا ہے، جس میں سابق امریکی سفیر اور فوجی اہلکار کام کرتے ہیں۔ کمپنی میں برطانوی تیل کی صنعت کے بڑے ناموں کے اثاثے ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ شام نے ہمیشہ اس زبردستی کے معاہدے کی مذمت کی ہے، اور اسے ماننے سے انکار کرتا ہے۔

اگرچہ گزشتہ ماہ امریکی صدر جوبائیڈں نے شامی تیل کے وسائل پر قابض رہنے کی پالیسی کو واپس لینے کا عدنیا دیا تھا، تاہم مقامی میڈیا کے مطابق امریکہ اب علاقے میں نیا عسکری ہوائی اڈہ بنا رہا ہے، جو اس چیز کی علامت ہے کہ امریکہ اب وہاں مستقل طور پر رہنا چاہ رہا ہے۔

واضح رہے کہ شامی حکام کئی موقعوں پر امریکہ کی تیل چوری کی مذمت کر چکے ہیں، شام کا کہنا ہے کہ وہ عالمی عدالت انصاف میں امریکہ کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔ شامی حکام امریکہ سے مختلف ملیشیاؤں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں تاہم امریکہ نے تاحال اسے قائم رکھا ہوا ہے۔

برطانوی پیٹرولیم کی ایک رپورٹ کے مطابق شام سے تیل کی پیداوار میں گزشتہ 12 سالوں میں 90٪ کی کمی واقع ہوئی ہے، اور یہ یومیہ 3 لاکھ 53 ہزار بیرل سے کم ہو کر محض 24 ہزار بیرل رہ گئی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us