اتوار, اکتوبر 17 Live
Shadow
سرخیاں
آؤکس بین الاقوامی سیاست میں کشیدگی و عدم استحکام بڑھانے اور اسلحے کی نئی دوڑ کا باعث ہو گا: چین اور مشرقی ممالک کے خلاف مغرب کے نئے عسکری اتحاد پر روسی ردعملایف بی آئی نے خفیہ کارروائی میں جوہری آبدوز ٹیکنالوجی بیچتے دو فوجی انجینئر گرفتار کر لیےامریکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیوں میں چین سے 15/20 سال پیچھے ہے: پینٹاگون سافٹ ویئر شعبے کے حال ہی میں مستعفی ہونے والے سربراہ کا تہلکہ خیز انٹرویوروسی محققین کووڈ-19 کے خلاف دوا دریافت کرنے میں کامیاب: انسانوں پر تجربات شروعسابق افغان وزیردفاع کے بیٹے کی امریکہ میں 2 کروڑ ڈالر کے بنگلے کی خریداری: ذرائع ابلاغ پر خوب تنقیدہمارے پاس ثبوت ہیں کہ فرانسیسی فوج ہمارے ملک میں دہشت گردوں کو تربیت دے رہی ہے: مالی کے وزیراعظم مائیگا کا رشیا ٹوڈے کو انٹرویوعالمی قرضہ 300کھرب ڈالر کی حدود پار کر کے دنیا کی مجموعی پیداوار سے بھی 3 گناء زائد ہو گیا: معروف معاشی تحقیقی ادارے کی رپورٹ میں تنبیہامریکہ میں رواں برس کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2020 سے بھی بڑھ گئی: لبرل امریکی میڈیا کی خاموشی پر شہری نالاں، ریپبلک کا متعصب میڈیا مہم پر سوالکورونا ویکسین بیچنے والی امریکی کمپنی کے بانیوں اور سرمایہ کار کا نام امریکہ کے 225 ارب پتیوں کی فہرست میں شامل: سماجی حلقوں کی جانب سے کڑی تنقیدامریکی جاسوس ادارے سی آئی اے کو دنیا بھر میں ایجنٹوں کی شدید کمی کا سامنا، ایجنٹ مارے جانے، پکڑے جانے، ڈبل ایجنٹ بننے، لاپتہ ہونے کے باعث مسائل درپیش، اسٹیشنوں کو بھرتیاں تیز کرنے کا بھی حکم: نیو یارک ٹائمز

برطانوی اسکولوں میں ہزاروں بچوں بچیوں سے جنسی زیادتی کا انکشاف، مہنگے اسکول سب سے زیادہ بدنام: تحقیقات شروع، انتظامیہ کی تعاون کی درخواست

لندن پولیس نے برطانوی اسکولوں میں جنسی زیادتی کی شکائیتوں پر جامع تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک آن لائن نظام کے ذریعے مجموعی طور پر 5800 شکایات موصول ہوئی ہیں، جس پر انتظامیہ نے جامع تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس افسران الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور انکی شہادتوں کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ پولیس نے درخواست گزاران سے سامنے آنے اور تعاون کی درخواست کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چند اسکولوں میں واقعات کا اندراج زیادہ ہے لہٰذا انکی انتظامیہ کو بھی تفتیش میں شامل کرتے ہوئے طلب کر لیا گیا ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعات کی تعداد پریشان کن ہے، اور وہ متاثرہ بچیوں اور انکے اہل خانہ سے تعاون چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ جنسی ہراسانی کے واقعات کی شکایت کے لیے خفیہ آن لائن نظام ایک سال پہلے متعارف کروایا گیا تھا، جس پر اپنی شناخت دکھائے بغیر شکایت درج کی اجا سکتی ہے۔ اب تک پولیس کو 5800 شکایات موصول ہوئی ہیں، جبکہ بچیوں کا ماننا ہے کہ زیادتیوں کی تعداد کئی گناء زیادہ ہے لیکن بچیاں خوف میں شکایت درج نہیں کرواتیں۔ تاہم سماجی حلقے اب اسے تحریکی شکل دے رہے ہیں، جسے برطانوی اسکولوں کی می ٹو تحریک کہا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بھی برطانوی اسکولوں میں جنسی زیادتی اور ہراسانی کا ماحول پروان چڑھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ جس میں صحافی کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ معاملے میں خصوصاً مالی اشرافیہ کے اسکول سب سے زیادہ بدنام ہیں۔

برطانوی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جنسی ہراسانی کے لیے سب سے زیادہ مہنگے نجی اسکول ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ بدنامی سے بچنے کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کرتے، تاہم دیگر اسکول حتیٰ کہ سرکاری اسکول بھی کچھ زیادہ اچھی شہرت کے حامل نہیں۔ پولیس نے اب تک ویب سائٹ پر 100 سب سے زیادہ بدنام اسکولوں کے نام شائع کیے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے برطانیہ کے ایک تاریخی اسکول ہائی گیٹ کے بچوں نے اسکول کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا ہے۔ بچوں کا کہنا ہے کہ 456 سال پرانا ملک کا نام نہاد اعلیٰ شہرت کا حامل تاریخی اسکول ماہانہ 4 لاکھ روپے فیس لیتا ہے لیکن انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ بچوں نے انتظامیہ کو جنسی زیادتی کی 200 سے زائد شہادتیں فراہم کی ہیں، جس پر اب انتظامیہ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بچوں کا کہنا ہے کہ برطانوی تعلیمی ادارے جنسی اڈوں کی صورت اختیار کر گئے ہیں اور انتظامیہ انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us