ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

امریکی انتخابی نظام تیسری دنیا کا بوسیدہ نظام ہے اور یہاں میڈیا قطعاً آزاد نہیں، 2024 میں دوبارہ انتخاب لڑوں گا: صدر ٹرمپ کا صدارت کے بعد پہلا باقائدہ انٹرویو نشر

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر 2024 میں صدارتی انتخاب لڑنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کے تمام لبرل سماجی میڈیا پر سابق صدر کی آواز بندی کی پالیسی تاحال جاری ہے اور ان کے انٹرویو کو فوری تمام ویب سائٹوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

لارا ٹرمپ کو دیا انٹرویو سابق صدر کا صدارت سے علیحدگی کے بعد پہلا باقائدہ انٹرویو ہے جس میں وہ نہ صرف امریکی میڈیا کے حوالے سے اپنے خیالات کا روائیتی انداز میں اظہار کرتے نظر آئے بلکہ مستقبل کے منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔

انٹرویو میں سابق صدر کے صدارت سے سبکدوش ہونے کے بعد کی زندگی پر بھی گفتگو ہوئی اور صدر ٹرمپ نے اپنی مصروفیات کے بارے میں بات کی۔

سابق امریکی صدر نے امریکی انتخابی نظام کو بوسیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی تیسری دنیا کے انتخابی نظام کی بہترین مثال ہے جس کے خلاف وہ مزاحمت کرتے رہیں گے اور جلسوں کا انعقاد جاری رہے گا۔ اپنے حامیوں کو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اچھے مستقبل کے لیے پرامید رہیں۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے ہوئے ایک عوامی سروے میں ریپبلک جماعت کے 54٪ ووٹروں نے صدر ٹرمپ کے 2024 میں امیدوار کے لیے حمایت کا اعلان کیا ہے۔

سماجی میڈیا پر صدر کی آواز بندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انکے بغیر سب بیزار اور اکتاہٹ سے بھرا ہے، اور لوگ تیزی سے ٹویٹر چھوڑ رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدات میں امریکی لبرل میڈیا اور سماجی میڈیا مالکان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ امریکہ میں میڈیا آزاد نہیں، اور یہ امریکی اقدار کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے اپنی ایک نئی ویب سائٹ متعارف کی ہے تاہم ابلاغی ماہرین کے مطابق اپنے حامیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کے لیے صدر ٹرمپ کے لیے سماجی میڈیا پر ہونا بہت ضروری ہے۔ یوٹیوب اور فیس بک نے صدر کا انٹرویو نشر ہوتے ہی اسے تلف کر دیا تھا، جس کے بعد ایک بار پھر سماجی حلقوں میں ناراضگی کا اظہار سامنے آیا۔

ویب سائٹوں کا کہنا ہے کہ صدر کے انٹرویو کو ہٹانے کا قدم 6 جنوری کی پالیسی کے تحت ہی ہے، جس میں صدر ٹرمپ پر پابندی لگائی گئی تھی۔

انٹرویو ایک غیر معروف مگر آزاد ویڈیو ویب سائٹ رمبل ڈاٹ کام پر دیکھا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ فیس بک اور اسکی تمام ویب سائٹوں، انسٹاگرام وغیرہ پر صدر ٹرمپ کی آواز بندی کی پالیسی کے حوالے سے ایک بار پھر اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نہ صرف صدر ٹرمپ کے کھاتے بلکہ انکا کوئی پیغام ویب سائٹ پر نشر کرنے والے صارف کا کھاتہ بھی بند کر دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے آواز بندی کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اب ذرائع ابلاغ کے لیے باقائدہ پیغام جاری کرتے ہیں، جو زیادہ جامع اور مؤثر طریقہ ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us