ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

امریکہ: ایک اور سیاہ فام کی پولیس افسر کے ہاتھوں موت، پورٹ لینڈ میں پرتشدد مظاہرے شروع

امریکہ میں ایک اور سیاہ فام کی پولیس کے ہاتھوں موت پر فورٹ لینڈ شہر میں ہنگامے شروع ہو گئے ہیں۔ داؤنتے رائٹ نامی سیاہ فام کو پولیس افسر نے گولی مار کر موت کے گھاٹ اتارا جس پر شہری سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

پولیس پر تشدد مظاہروں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، پر مظاہرین کی بڑی تعداد انکے کنٹرول سے باہر ہے۔ مظاہرین پولیس کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور رائٹ کی موت کو محکمانہ تعصب کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 20 سالہ نوجوان رائٹ کو تلاشی کے لیے روکا گیا اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی جس سے بچنے کے لیے رائٹ بھاگنے لگا تو کِم پوٹر نامی خاتون افسر نے اسے فوری گولی مار دی، جس سے رائٹ کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔ محکمے نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کم کو جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام نوجوانوں کی موت ایک معمول ہے جس پر شدید احتجاج کے باوجود کوئی محکمانہ سدھار نہیں کی جا رہا جس کے باعث امریکہ میں معاشرتی انتشار اپنے عروج پر ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us