پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

کیوبا: کاسترو خاندان 60 سال بعد اقتدار سے الگ، راعل کاسترو نے پارٹی عہدہ بھی چھوڑ دیا، قیادت نوجوانوں کو دینے کا اعلان

کیوبا کمیونسٹ جماعت کے سربراہ راعل کاسترو نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس موقع پر سابق صدر اور انقلابی رہنما فیڈل کاسترو کے بھائی کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان نسل کو ملک کی قیادت سونپنا چاہتے ہیں، جو استعماری قوتوں کے خلاف زیادہ قوت سے لڑ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کاسترو خاندان 1961 سے کیوبا کی کیمونسٹ جماعت کی قیادت کر رہی ہے۔

ہوانا میں کنونشن تقریب سے خطاب میں راعل کاسترو کا کہنا تھا کہ وہ جب تک زندہ ہیں، کیوبا اور ملکی نظریے کے دفاع کے لیے ہمیشہ لڑنے کو تیار رہیں گے۔ راعل 2011 میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے تھے، اس سے پہلے فیڈل کاسترو 1961 سے عہدے پر فائز تھے۔ 1959 میں کامیاب بغاوت کے بعد سے کاسترو خاندان ہی ملک کو استعماری قوتوں سے بچائے ہوئے ہے۔

راعل کاسترو 2018 میں ملک کی صدارت سے بھی الگ ہو گئے تھے لیکن کیمونسٹ جماعت کے سربراہ کا عہدہ انہوں نے اپنے پاس رکھا تھا۔ یاد رہے کہ کیوبا دنیا کی ان چند ریاستوں میں سے ہے جہاں اب بھی اشتراقیت بطور نظام رائج ہے۔

سن 2011 میں راعل کاسترو نے کچھ ترامیم کے ذریعے مارکیٹ کو کھولا تاہم وسیع تناظر میں کیوبا اب بھی ایک اشتراکی ریاست ہے۔ کیوبا کا نظام صحت اور خواندگی بیشتر سرمایہ دارانہ ریاستوں سے بہتر ہے، ملک میں بے جا تصرف کی اشیاء کا داخلہ ممنوع ہے اور تنخواہ اب بھی 20 ڈالر فی ماہ ہے۔ 1 کروڑ دس لاکھ آبادی والے ملک میں صرف 1 لاکھ 73 ہزار کاریں ہیں۔

ملک اور جماعت کی بھاگ دوڑ سنبھالنا کسی بھی رہنما کے لیے آسان نہ ہو گا، خصوصاً معیشت اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بڑے مسائل ہوں گے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us