اتوار, مئی 9 Live
Shadow
سرخیاں
روسی بحریہ میں ایک اور جدید ترین آبدوز کازان شاملچینی راکٹ خلائی اسٹیشن منزل پر کامیابی سے پہنچا کر بحیرہ ہند کی فضاؤں میں جل کر بھسم: آبادی والے علاقے میں گرنے کے مغربی پراپیگنڈے پر چین کا افسوس کا اظہارکابل: اسکول پر راکٹ حملے میں متعدد طالبات سمیت 30 جاں بحق، 50 زخمیروس: دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف فتح کا جشن، ماسکو میں فوجی پریڈ کا انعقاد – براہ راست ویڈیومالدیپ کے سابق صدر محمد نشید بم حملے میں بال بال بچ گئےبرازیل میں پولیس کے منشیات فروشوں کے خلاف چھاپے جاری: 3 روز میں 1 پولیس افسر سمیت 28 ہلاکعراق: نیٹو افواج کے زیر استعمال ہوائی اڈے پر ڈرون حملہ، کوئی جانی نقصان نہ ہونے کا دعویٰامریکی تیل ترسیل کی سب سے بڑی کمپنی پر سائبر حملہ: ملک بھر میں پہیہ جام ہونے کا خطرہ منڈلانے لگااسرائیل کوئی ریاست نہیں ایک دہشت گرد کیمپ ہے: ایرانی ریاستی سربراہ علی خامنہ ایاطالوی پولیس افسر کے قتل کے جرم میں دو امریکی سیاحوں کو عمر قید کی سزا

صحافت یا صحافی نہیں عوام غلط ہے: واشنگٹن پوسٹ کالم نگار کی صحافیوں کے حق میں تحریر – سماجی میڈیا پر عوامی ردعمل

“امریکی صحافی خود کو حق گو اور بدعنوانی کے احتساب کیلئے خدائی ترجمان سمجھتے ہیں، لیکن جب عام عوام اس خیال کو نہیں مانتی تو یہ وضاحتوں پر اتر آتے ہیں۔”

مارگاریت سولیوان، واشنگٹن پوسٹ

امریکی صحافی کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں جدید صحافت کیلئے طے کردہ امریکی اقدار؛ “بدعنوانی کا احتساب، شفافیت، گناہ کو سامنے لانے اور بے آواز کو آواز دینے” میں، اور عام عوام میں بڑا پردہ حائل ہو گیا ہے۔

اپنی ایک تازہ تحریر میں امریکی صحافی نے تحقیقی مطالعہ پر تبصرے میں لکھا ہے کہ امریکہ کی صحافت کے لیے طے کردہ اقدار اب مزید عوامی امنگوں کی عکاسی نہیں کرتیں۔ عوامی سروے میں سامنے آیا ہے کہ 5 میں سے صرف 1 امریکی شہری اوپر دی گئی صحافتی اقدار سے متفق ہے۔ مطالعہ کو وسعت دیتے ہوئے جب شہریوں کو حق کے علمبردار، وفاشعار، بااخلاق اور صحافت کی حمایت کے 4 گروہوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا کہا گیا تو دس میں سے صرف 2 شہریوں نے خود کو صحافت کے حق میں کہلوانا پسند کیا۔

واضح رہے کہ امریکی شہریوں کے صحافت پر اعتماد میں بری طرح کمی ہوئی ہے۔ 70 کی دہائی میں 70٪ امریکی شہریوں نے میڈیا پر اعتماد کا اظہار کیا تھا جبکہ گزشتہ سال کیے گئے سروے کے مطابق اب صرف 40٪ شہریوں کو صحافت پر اعتماد ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی کالم نگار صحافی کا ماننا ہے کہ اس میں صحافیوں کا کوئی قصور نہیں ہے اور وہ کچھ بُرا نہیں کر رہے، لیکن انہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ بداعتماد عوام کو بار بار کہیں کہ وہ متعصب نہیں، وہ صرف اپنا کام کر رہے ہیں۔ سولیوان کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو مختلف سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ سوچنا ہو گا کہ وہ کیسے ان 8 بداعتماد لوگوں تک پہنچیں جو انکے حامی نہیں، اور صرف اپنی دلچسپی کی خبروں کو دیکھتے اور آگے چلاتے ہیں۔

سماجی میڈیا پر سولیوان کی تحریر پر رائے دیتے ہوئے کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بدعنوانی کے حق میں نہیں اور نہ تبصروں سے منع کرتا ہے، بلکہ اعتراض سولیوان کے ہم پیشہ صحافیوں کی صحافت پر ہے جو اعلیٰ اقدار پر عمل نہیں کرتے۔

ایک صارف نے ردعمل میں کہا ہے کہ لبرل میڈیا اقدار پہ صرف تب عمل کرتا ہے جب یہ ڈیموکریٹ جماعت کے لیے معاون ہو۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سی این این کے ایک ڈائریکٹر نے بھی معروف لبرل نشریاتی ادارے کے کام کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کیسے سابق صدر ٹرمپ کے خلاف مہم چلائی گئی، جس کے لیے کووڈ-19 کا خوف بڑھا چڑھاکر پھیلایا گیا، ماحولیاتی مسائل پر اچانک مہم تیز کر دی گئی اور ہر طرح سے ڈیموکریٹ جماعت کے نامزد جوبائیڈن کو فائدہ پہنچایا گیا۔

یوں گزشتہ سال سیاہ فام مظاہروں کو سی این این پر امن دکھاتا رہا جبکہ اس دوران مظاہرین نے امریکہ میں حد درجہ توڑ پھوڑ کی اور تباہی مچائی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us