پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

صحافت یا صحافی نہیں عوام غلط ہے: واشنگٹن پوسٹ کالم نگار کی صحافیوں کے حق میں تحریر – سماجی میڈیا پر عوامی ردعمل

“امریکی صحافی خود کو حق گو اور بدعنوانی کے احتساب کیلئے خدائی ترجمان سمجھتے ہیں، لیکن جب عام عوام اس خیال کو نہیں مانتی تو یہ وضاحتوں پر اتر آتے ہیں۔”

مارگاریت سولیوان، واشنگٹن پوسٹ

امریکی صحافی کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں جدید صحافت کیلئے طے کردہ امریکی اقدار؛ “بدعنوانی کا احتساب، شفافیت، گناہ کو سامنے لانے اور بے آواز کو آواز دینے” میں، اور عام عوام میں بڑا پردہ حائل ہو گیا ہے۔

اپنی ایک تازہ تحریر میں امریکی صحافی نے تحقیقی مطالعہ پر تبصرے میں لکھا ہے کہ امریکہ کی صحافت کے لیے طے کردہ اقدار اب مزید عوامی امنگوں کی عکاسی نہیں کرتیں۔ عوامی سروے میں سامنے آیا ہے کہ 5 میں سے صرف 1 امریکی شہری اوپر دی گئی صحافتی اقدار سے متفق ہے۔ مطالعہ کو وسعت دیتے ہوئے جب شہریوں کو حق کے علمبردار، وفاشعار، بااخلاق اور صحافت کی حمایت کے 4 گروہوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا کہا گیا تو دس میں سے صرف 2 شہریوں نے خود کو صحافت کے حق میں کہلوانا پسند کیا۔

واضح رہے کہ امریکی شہریوں کے صحافت پر اعتماد میں بری طرح کمی ہوئی ہے۔ 70 کی دہائی میں 70٪ امریکی شہریوں نے میڈیا پر اعتماد کا اظہار کیا تھا جبکہ گزشتہ سال کیے گئے سروے کے مطابق اب صرف 40٪ شہریوں کو صحافت پر اعتماد ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی کالم نگار صحافی کا ماننا ہے کہ اس میں صحافیوں کا کوئی قصور نہیں ہے اور وہ کچھ بُرا نہیں کر رہے، لیکن انہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ بداعتماد عوام کو بار بار کہیں کہ وہ متعصب نہیں، وہ صرف اپنا کام کر رہے ہیں۔ سولیوان کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو مختلف سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ سوچنا ہو گا کہ وہ کیسے ان 8 بداعتماد لوگوں تک پہنچیں جو انکے حامی نہیں، اور صرف اپنی دلچسپی کی خبروں کو دیکھتے اور آگے چلاتے ہیں۔

سماجی میڈیا پر سولیوان کی تحریر پر رائے دیتے ہوئے کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بدعنوانی کے حق میں نہیں اور نہ تبصروں سے منع کرتا ہے، بلکہ اعتراض سولیوان کے ہم پیشہ صحافیوں کی صحافت پر ہے جو اعلیٰ اقدار پر عمل نہیں کرتے۔

ایک صارف نے ردعمل میں کہا ہے کہ لبرل میڈیا اقدار پہ صرف تب عمل کرتا ہے جب یہ ڈیموکریٹ جماعت کے لیے معاون ہو۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سی این این کے ایک ڈائریکٹر نے بھی معروف لبرل نشریاتی ادارے کے کام کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کیسے سابق صدر ٹرمپ کے خلاف مہم چلائی گئی، جس کے لیے کووڈ-19 کا خوف بڑھا چڑھاکر پھیلایا گیا، ماحولیاتی مسائل پر اچانک مہم تیز کر دی گئی اور ہر طرح سے ڈیموکریٹ جماعت کے نامزد جوبائیڈن کو فائدہ پہنچایا گیا۔

یوں گزشتہ سال سیاہ فام مظاہروں کو سی این این پر امن دکھاتا رہا جبکہ اس دوران مظاہرین نے امریکہ میں حد درجہ توڑ پھوڑ کی اور تباہی مچائی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us