ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

چینی ماہرین کی حکومت کو تنبیہ: 3 یا زیادہ بچوں کی پالیسی اپنائی جائے اور خواتین کو رغبت بھی دی جائے، ورنہ 2050 تک ملک معاشی میدان میں امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکے گا

چین کے سرکاری بینک نے حکومت کو جامع تحقیق کے بعد تجویز دی ہے کہ آئندہ دہائی میں امریکہ سے معاشی میدان میں مقابلے کے لیے بچوں کی تعداد کی پالیسی ختم کرنا ہو گی تاکہ ملک کو درکار افرادی قوت دستیاب رہ سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو اس حقیقت سے نظر نہیں چرانی چاہیے کہ ملک میں بچوں کی پیدائش کا تناسب گراوٹ کا شکار ہے، اور بوڑھے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں حکومت کو صرف 2 بچوں کی پیدائش کی اجازت کی پالیسی ختم کرنا ہو گی تاکہ مستقبل میں ملکی ضرورت کے تحت افرادی قوت دستیاب رہ سکے، رپورٹ میں خصوصی طور پر امریکی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ ملک میں معیاری ہجرت کے لیے نت نئی پالیسیساں لا رہا ہے، حتیٰ کہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے بچوں کو بھی قبول کیا جا رہا، ایسے میں چین کو بھی اپنے حالیہ سب سے بڑے حریف سے مقابلے کے لیے خود کو تیار رکھنا ہو گا۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق آئندہ تین دہائیوں میں چین کی آبادی میں 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کی کمی کا امکان ہے، جبکہ امریکہ کی آبادی میں کم ازکم 5 کروڑ کا اضافہ متوقع ہے۔ یعنی چین کی افرادی قوت میں کمی کا امکان ہے جس کا براہ راست اثر اسکی معیشت پر بھی پڑے گا۔ ماہرین خصوصی طور پر امریکہ کی دنیا بھر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ و ماہر افرادی قوت کو اپنی جانب مائل کرنے کی پالیسیوں کو چینی اعلیٰ حکام کے لیے بڑے مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چین کی حالیہ ترقی میں اسکی آبادی کا بڑا کردار ہے، جہاں امریکہ کے 65٪ کی نسبت اسکی آبادی کا 71٪ سستی مزدوری مہیا کرنے کا باعث ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق موجودہ پالیسیوں کے تحت 2030 تک چین کی آبادی 1 ارب 46 کروڑ ہو گی، لیکن اگلے بیس برسوں میں اس میں 6 کروڑ کی کمی واقع ہو جائے گی۔ جبکہ بوڑھوں کی آبادی میں اضافہ معیشت پر بوجھ کو مزید بڑھائے گا۔

رپورٹ میں آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کو چین کا سب سے بڑا مدمقابل بیان کیا گیا ہے، چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین نے فوری پالیسی نہ بدلی تو 2027 تک ہی ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ کام کرنے والے ہاتھوں والا ملک بن جائے گا۔ لہٰذا حکومت کو فوری طور پر حالات کے پیش نظر اپنی پالیسیوں کو بدلنا چاہیے اور کم ازکم تین یا اس سے زیادہ بچوں کی پالیسی کو اپنانا چاہیے۔

چینی ماہرین نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ حکومت کو خواتین کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی رغبت دینی چاہیے، اور معاشرے کو بھی اس حوالے سے ابھارنا چاہیے۔

یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں وزارت برائے عوامی سلامتی نے حکومت کو رپورٹ میں کہا ہے کہ 2020 میں کووڈ-19 کے باعث ملک میں بچوں کی پیدائش میں حد درجہ 15٪ کی کمی ہوئی ہے، حکومت کو فوری طور پر اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ضروری ہے/

واضح رہے کہ چین نے کئی دہائیوں تک ایک خاندان کے لیے ایک بچے کی پالیسی بنا رکھی تھی، جس پر سختی سے عمل کیا جاتا تھا لیکن ماہرین شماریات کی تجویز پر 2013 میں پالیسی کو بدلتے ہوئے 2 بچوں کی اجازت دی گئی تھی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us