پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

روسی فضائیہ کا شام میں عسکری کیمپ پر حملہ: 200 دہشت گرد اور بھاری اسلحہ تباہ کرنے کا دعویٰ

روسی فضائیہ نے شام میں ایک عسکری کیمپ پر حملے میں 200 گھس بیٹھیوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حملے میں 24 گاڑیاں اور 1/2 ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ حملہ پالمیرا کے شمال میں کیا گیا تھا۔

شام میں تعینات روسی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں حساس اداروں کی جانب سے شام کے صحرا میں دو خفیہ عسکری کیمپوں کی اطلاعات تھیں، جس کی تصدیق کرنے کے بعد وہاں فضائی حملہ کیا گیا۔ کیمپ میں دہشت گردوں کو بم بنانے، حملہ آور جتھے تیار کرنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ کیمپ کا علاقہ شامی حکومت کے زیر اثر نہیں تھا، البتہ اس کے انتہائی قریب امریکی فوج کے زیر انتظام علاقہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے دمشق سے بغداد کی سڑک پر ایک غیر قانونی چھاؤنی بنا رکھی ہے، جس پر شامی حکومت کئی بار اعتراض کر چکی ہے اور معاملہ عالمی اداروں میں بھی اٹھایا جا چکا ہے۔ روسی ترجمان کا کہنا ہے کہ علاقہ دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور یہاں سے ہی ملک بھر میں حملے منظم کیے جاتے ہیں۔

حالیہ حملہ کس گروہ کے کیمپ پر کیا گیا، اس حوالے سے روسی فوج کے ترجمان نے کوئی تفصیل نہیں دی۔ البتہ روسی میڈیا کے مطابق یہ داعش، القاعدہ یا اس سے منسلک ترکی کا حمایت یافتہ گروہ حیات تحریر الشام کا کیمپ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ روس نے شام میں 2015 میں فوجیں اتاریں تھیں، جسکی باقائدہ دعوت شامی حکومت نے دی تھی۔ شام میں 2011 میں عوامی بغاوت شرو ع ہوئی تھی اور 2015 تک ملک کا 70٪ علاقہ داعش کے کنٹرول میں چلا گیا تھا۔ بشار الاسد کی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے روس کو مدد کی درخواست کی تھی۔

روسی مدد سے شام میں ایرانی، امریکی اور دیگر گروہوں کا اثرورسوخ کام ہوا اور اب وہ صرف ادلیب تک محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

شام میں اس وقت التنف اور اردن کا سرحدی علاقہ امریکی فوج، شمال مشرقی علاقہ امریکی حمایت یافتہ کردوں اور ادلب کا علاقہ ترک فوج کے زیر کنٹرول ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us