ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

بحیرہ اسود میں عسکری سرگرمیاں و کشیدگی: امریکی جہاز کے گشت کا منصوبہ تَرک، برطانوی جہاز روانہ، روسی جنگی مشق کا منصوبہ برقرار

برطانیہ کے دو درمیانے بحری جہاز بحیرہ اسود میں گشت کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جہاز روسی بحری حدود کے قریب یوکرین کے پانیوں میں گشت کریں گے۔ مغربی ممالک اور روس کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں دفاعی ماہرین کی جانب سے اس عسکری سرگرمی کو انتہائی محتاط نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق روانہ بحری جہازوں میں ایک طیارہ کش ٹائپ 45 اور ایک آبدوز کش ٹائپ 23 بحری جہاز شامل ہیں، دونوں جہاز برطانوی شاہی بیڑے سے بحیرہ روم میں پہنچ کر الگ ہو جائیں گے، کیونکہ عالمی قوانین کے تحت بیڑے کو بحیرہ اسود میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ کسی قسم کی بدمزگی کی صورت میں دونوں جہازوں کو رسد پہنچانے کے لیے مزید جہاز بھی تیار ہوں گے۔

واضح رہے کہ برطانوی گشت کا اعلان روسی جنگی مشق کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، روسی بحری بیڑہ ایڈمرل ماکاروو گزشتہ ہفتے سفر کے لیے روانہ ہو گیا تھا۔ روسی جنگی مشقوں میں جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر بھی حصہ لیں گے۔

یاد رہے کہ بحیرہ اسود میں روسی جنگی مشقوں کا اعلان ترکی کے امریکی جہازوں کی آمد کی اطلاع پر کیا گیا تھا، یعنی کشیدگی بڑھانے والی مشتعل صورتحال کسی حد تک امریکہ کی شروع کردہ ہے۔ تاہم یاد رہے کہ روس کے جنگی مشقوں کے اعلان کے ساتھ ہی امریکہ نے منصوبہ ترک کر دیا تھا اور اپنی وضاحت میں کہا تھا کہ ترکی کو پیغام سمجھنے میں غلطی لگی، امریکہ نے منصوبے کی قطعاً تصدیق نہیں کی تھی۔ ترک وزیر خارجہ نے امریکی بیان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے منصوبہ ترک کر دیا ہے، اور اسکی کوئی وجہ بیان نہیں کی، اگرچہ امریکہ کا کہنا تھا کہ سفر معمول کا گشت ہو گا۔

دوسری طرف امریکہ کی جانب سے یوکرین کو لے کر تحفظات بڑھ رہے ہیں اور رواں ماہ بھی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرنس روس کو یوکرین سرحد پر اشتعال انگیزی سے باز رہنے کی تلقین کر چکے ہیں۔ دوسری طرف روس نے فریقین کو تنبیہ کی ہے کہ یوکرین کے ساتھ رابطے میں دشواری ہو رہی ہے، یوکرینی رویہ کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us