ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

جرمنی کی پولیس نے بچوں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو نشر کرنے والی سب سے بڑی ویب سائٹ پکڑلی، 4 ملزمان گرفتار

جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کی پولیس نے بچوں سے جنسی زیادتی کا مواد شائع کرنے والی اب تک کی سب سے بڑی ویب سائٹ پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے، ویب سائٹ کے لیے کام کرنے والے 3 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، پولیس کے مطابق ویب سائٹ کے 4 لاکھ سے زائد استعمال کنندگان تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ویب سائٹ 2019 سے چل رہی تھی، جبکہ دفتر سے چھاپے کے دوران کچھ مزید متعلقہ ویب سائٹوں کا سراغ بھی ملا ہے۔

گرفتار افراد میں 49 سالہ ملزم کو میونخ، 40 سالہ کو پیدربارن جبکہ 58 سالہ ملزم کو پیراگوئے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے ویب سائٹ کا تسلسل سے دورہ کرنے والے اور اس کے لیے بچوں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو و تصاویر دینے والے ایک 64 سالہ شخص کو ہیمبرگ سے گرفتار کیا ہے، جس نے مبینہ طور پر ویب سائٹ کو 3500 سے زائد ویڈیو و تصاویر بیچیں۔

پولیس کے مطابق ویب سائٹ کے دفتر پر چھاپے کے دوران بچوں کے ساتھ پرتشدد جنسی زیادتی کا مواد بھی برآمد ہوا ہے، انتظامیہ نے زمہ داران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا عندیا دیا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ معصوم جانوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔

پولیس ترجمان کے مطابق تحقیقات کے دوران یورو پولیس کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا کے اداروں سے بھی مدد لی گئی تھی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us