ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

امریکہ میں فسادات اور پولیس پر اعتماد میں کمی: امریکیوں میں اسلحے کی خریداری کے رحجان میں 35٪ مزید اضافہ، ڈیموکریٹ نے ہتھیاروں پر پابندی کے لیے صدر پر دباؤ بڑھا دیا

امریکہ میں ایک تازہ سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ سال امریکی نوجوانوں میں اسلحہ خریدنے کے رحجان میں 35 فیصد کا حد درجہ اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسا ملک میں بگڑتے حالات اور بڑھتے دھنگے فساد کے پیش نظر کر رہے ہیں۔

راسموسن کی جائزہ رپورٹ ملک میں بڑھتے فائرنگ کے واقعات کے پیش نظر مرتب کی گئی ہے جسے امریکہ میں بندوق مخالف لابی کے ڈیموکریٹ ارکان کانگریس نے صدر جوبائیڈن کو اسلحے پر پابندی لگانے کے لیے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔

راسموسن کا کہنا ہے کہ انکی رپورٹ میں شامل اعدادوشمار ایف بی آئی کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ گذشتہ سال امریکہ میں 3 کروڑ 97 لاکھ نئی بندوقیں خریدی گئیں، جو 2019 کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں اسلحہ خریدنے کا رحجان اس قدر زیادہ ہے کہ گولیوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے، عوامی سروے کے مطابق تقریباً نصف آبادی کو شکایت ہے کہ انہیں اپنے ہتھیاروں کے لیے گولیاں نہیں مل رہیں۔

اطلاعات کے مطابق کچھ ریاستوں میں گولیوں کی قلت اتنی شدید ہے کہ محکمہ پولیس کو اپنے اہلکاروں کی تربیت  کے لیے بھی گولیاں دستیاب نہیں۔

واضح رہے کہ عام شہریوں کے اسلحہ رکھنے کے حوالے سے امریکہ پہلے بھی دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جہاں دنیا میں اس وقت موجود مجموعی 85 کروڑ 70 لاکھ ہتھیاروں کا 46٪ امریکی شہریوں کی ملکیت میں ہے۔ جبکہ امریکی آبادی دنیا کا صرف 4 فیصد ہے۔

سن 2017 میں جاری اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں ہر مرد، عورت اور بچے کے پاس 1 سے زائد ہتھیار موجود ہیں۔

حالیہ برسوں میں ملک میں بڑھتے فسادات کے باعث ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے، جس میں کچھ کردار اسلحہ ساز کمپنیوں کی جانب سے چلائی جانے والی میڈیا مہم کا بھی ہے، کمپنیاں فسادات کے دوران عوامی املاک اور پولیس پر حملوں کو دکھاتے ہوئے خوف پھیلا رہی ہیں کہ اگر پولیس خود کو اور املاک کو نہیں بچا سکتی تو یہ انسانی جانوں کا تحفظ کیسے کرے گی، لہٰذا  سب کو جدید اسلحہ خریدنا چاہیے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us