ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

امریکہ میں فسادات اور پولیس پر اعتماد میں کمی: امریکیوں میں اسلحے کی خریداری کے رحجان میں 35٪ مزید اضافہ، ڈیموکریٹ نے ہتھیاروں پر پابندی کے لیے صدر پر دباؤ بڑھا دیا

امریکہ میں ایک تازہ سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ سال امریکی نوجوانوں میں اسلحہ خریدنے کے رحجان میں 35 فیصد کا حد درجہ اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسا ملک میں بگڑتے حالات اور بڑھتے دھنگے فساد کے پیش نظر کر رہے ہیں۔

راسموسن کی جائزہ رپورٹ ملک میں بڑھتے فائرنگ کے واقعات کے پیش نظر مرتب کی گئی ہے جسے امریکہ میں بندوق مخالف لابی کے ڈیموکریٹ ارکان کانگریس نے صدر جوبائیڈن کو اسلحے پر پابندی لگانے کے لیے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔

راسموسن کا کہنا ہے کہ انکی رپورٹ میں شامل اعدادوشمار ایف بی آئی کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ گذشتہ سال امریکہ میں 3 کروڑ 97 لاکھ نئی بندوقیں خریدی گئیں، جو 2019 کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں اسلحہ خریدنے کا رحجان اس قدر زیادہ ہے کہ گولیوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے، عوامی سروے کے مطابق تقریباً نصف آبادی کو شکایت ہے کہ انہیں اپنے ہتھیاروں کے لیے گولیاں نہیں مل رہیں۔

اطلاعات کے مطابق کچھ ریاستوں میں گولیوں کی قلت اتنی شدید ہے کہ محکمہ پولیس کو اپنے اہلکاروں کی تربیت  کے لیے بھی گولیاں دستیاب نہیں۔

واضح رہے کہ عام شہریوں کے اسلحہ رکھنے کے حوالے سے امریکہ پہلے بھی دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جہاں دنیا میں اس وقت موجود مجموعی 85 کروڑ 70 لاکھ ہتھیاروں کا 46٪ امریکی شہریوں کی ملکیت میں ہے۔ جبکہ امریکی آبادی دنیا کا صرف 4 فیصد ہے۔

سن 2017 میں جاری اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں ہر مرد، عورت اور بچے کے پاس 1 سے زائد ہتھیار موجود ہیں۔

حالیہ برسوں میں ملک میں بڑھتے فسادات کے باعث ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے، جس میں کچھ کردار اسلحہ ساز کمپنیوں کی جانب سے چلائی جانے والی میڈیا مہم کا بھی ہے، کمپنیاں فسادات کے دوران عوامی املاک اور پولیس پر حملوں کو دکھاتے ہوئے خوف پھیلا رہی ہیں کہ اگر پولیس خود کو اور املاک کو نہیں بچا سکتی تو یہ انسانی جانوں کا تحفظ کیسے کرے گی، لہٰذا  سب کو جدید اسلحہ خریدنا چاہیے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us