پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

کشمیری رہنما سید علی گیلانی 92 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے: مقبوضہ وادی میں ہندوستانی فوج کی تعداد میں مزید اضافہ، شہریوں کو محبوب رہنما کی نماز جنازہ بھی ادا نہ کرنے دی گئی، تدفین رات کے اندھیرے میں کر دی گئی

کشمیری آزادی پسند رہنما سید علی گیلانی کی نظر بندی میں وفات کے بعد ہندوستان نے مقبوضہ وادی میں فوج مزید بڑھا دی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بڑے مظاہرے اور احتجاج کے پیش نظر دہلی حکومت نے شہریوں کو جنازے میں شرکت کی اجازت بھی نہ دی اور انتہائی مختصر افراد کی موجودگی میں ہردلعزیز رہنما کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ سمیت مواصلات کے دیگر ذرائع بھی بند ہیں۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ عسکری تعیناتیاں سرینگر سمیت علاقے کے اہم مقامات پر کی گئی ہیں، اور صرف طبی مجبوری کے حامل افراد کو حرکت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سید علی گیلانی کے گھر کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور لوگوں کو تعزیت کے لیے بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔

ہندوستانی فوج نے ظلم کی تاریخ میں اضافہ کرتے ہوئے سید علی گیلانی کی وصیت کے برعکس انکی تدفین مرکزی قبرستان کے بجائے ایک غیر معروف مقام پر رات گئے کی ہے، جس میں انتہائی مختصر رشتہ داروں کو شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق سید علی گیلانی کو کچھ روز سے سینے میں درد کی شکایت تھی تاہم انہیں مکمل طبی معائنے کی اجازت نہ دی گئی۔ یاد رہے کہ سید علی گیلانی کشمیر کی آزادی اور حق خود ارادیت کی سب سے بڑی اور مظبوط آواز تھے۔ کشمیری رہنما پچھلے 12 برسوں سے نظر بند تھے اور انہیں کسی قسم کی سیاسی و سماجی مجلس میں شرکت یا انعقاد کی اجازت نہ تھی۔ اس کے باوجود ان کے پیغام پر کشمیری بڑی تعداد میں مظاہروں اور احتجاج میں نکلتے رہے ہیں۔

پاکستانی پارلیمنٹ سمیت ملک بھر میں کشمیری رہنما کا غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا گیا۔ سید علی گیلانی کی وفات پر ایک دن کے قومی سوگ منایا جا رہا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us