Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

لیبیا

لیبیا میں امن کی کوششوں کی طرف اہم قدم، حفتر نے جنگ بندی کا عندیا دے دیا

لیبیا میں امن کی کوششوں کی طرف اہم قدم، حفتر نے جنگ بندی کا عندیا دے دیا

لیبیا
خانہ جنگی کے شکار افریقی ملک لیبیا میں ترکی کی مداخلت نے بالآخر ملک میں سیاسی صورتحال بدل ڈالی ہے۔ ترکی نے جنوری 2020 میں کھل کر لیبیا کی عالمی تسلیم یافتہ حکومت کی عسکری مدد کا اعلان کیا تھا جس میں فوج کے علاوہ ڈرون طیارے بھی فراہم کیے گئے تھے۔ لیبیا کے وزیر اعظم فائز السراج کو ملنے والی اس کمک نے بالآخر خلیفہ حفتر کے جنگجوؤں سے ملک کے اہم تذویراتی شہرترہونا کا انتظام واپس لے لیا ہے۔ ترہونا دارالحکومت ترابلس سے صرف 80 کلومیٹر کی مسافت پر ہے اور شہر خلیفہ حفتر کا سیاسی وعسکری مرکز رہا ہے۔ یہاں ہی حفتر کے اتحادی جن میں مصر اور روس نمایاں ہیں، اسے امداد بھی فراہم کرتے تھے۔ حفتر کی جانب سے ترہونا کا انتظام کھونے کے بعد دونوں گروہوں کی طرف سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ جس میں حفتر نے اپنے اتحادی، مصر کے صدر الفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ دونوں فر...

Contact Us