Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

“ہمارے دوستی یہاں ختم”: فلپینی صدر دوتارت چین پر برہم، بحیرہ جنوبی چین سے بحری جہاز ہٹانے کا مطالبہ مسترد کر دیا

فلپائن اور چین میں  بحیرہ جنوبی چین کی سمندری حدود پر اختلاف بڑھ گئے ہیں۔ فلپائن کے صدر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ چین کے ساتھ متنازعہ سرحدی پانیوں سے اپنے ملک کے بحری جہاز واپس نہیں بلائیں گے جس کے باعث دونوں ممالک کے مابین ایک طویل عرصے سے جاری تنازعہ مزید بڑھ گیا ہے۔ ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے صدر رودریگو نے کہا کہ وہ چینی مطالبات پر عمل نہیں کریں گے اور بحیرہ جنوبی چین میں جزیروں کی خودمختاری کے لیے زور دیتے رہیں گے۔

“ہمارا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے اور میں اسے یہاں اب ایک بار پھر بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بحری جہاز ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔” رودریگو نے مزید کہا کہ “میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ چاہے آپ مجھے مار دیں۔ ہماری چین سے دوستی یہاں ختم سمجھو۔”

اپریل میں چین نے فلپائن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے جہازوں کو متنازعہ پانیوں سے ہٹائے اور بحیرہ جنوبی چین میں کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنانے اور تنازعات کو ہوا دینے والے اقدامات بند کردے۔

جس پر صدر رودریگو نے کہا کہ وہ چین کی حیثیت کا احترام کرتے ہیں اور وہ مشکلات یا جنگ میں نہیں گرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ بیجنگ کے ساتھ قریبی تعلقات پر امریکہ نواز مقامی میڈیا صدر رودریگو پر کڑی تنقید کرتا رہتا ہے۔ تاہم اپریل میں بحیرہ جنوبی چین میں بحری جہاز بھیجنے اور مقامی جزیروں پر فلپینی دعوؤں کے اسرار پر ان کی خوب واہ واہ کی جا رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے بحیرہ جنوبی چین میں فلپینی بحریہ نے چین کو اپنے 287 چھوٹے و بڑے بحری جہازوں کے ذریعے سمندری علاقے میں گھسنے کی اطلاع دی تھی۔ اس کے علاوہ فلپائن چین سے 2016 میں عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کے مطابق اپنے جہاز ہٹانے کا مطالبہ کر رہا ہے، جس میں عدالت نے چین کے علاقے پر دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا۔

بحیرہ جنوبی چین کے جزیروں کی ملکیت کا دعویٰ نہ صرف چین اور فلپائن کرتے ہیں۔ بلکہ ویتنام، ملیشیا، انڈونیشیا، تائیوان اور برونائی بھی وسائل سے مالا مال اور تذویراتی گہرائی کے حامل علاقے کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

5 + 12 =

Contact Us