ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

عالمی قرضہ 300کھرب ڈالر کی حدود پار کر کے دنیا کی مجموعی پیداوار سے بھی 3 گناء زائد ہو گیا: معروف معاشی تحقیقی ادارے کی رپورٹ میں تنبیہ

رواں برس کے احتتام تک دنیا کا مجموعی قرضہ مجموعی پیداوار سے 260٪ بڑھ جائے گا۔ عالمی معاشی خدوخال پر نظر رکھنے والے معروف ادارے ایس اینڈ پی گلوبل کی نئی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا کا مجموعی قرضہ تاریخ کی تمام حدود پھلانگتا ہوا 300 کھرب ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس میں حکومتوں، انفرادی قرضوں، کمپنیوں، بینکوںکا قرض شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق وباء کے دوران قرضوں میں بے جوڑ اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر عالمی سطح پر 36 کھرب ڈالر کا قرضہ صرف وباء کے دوران لیا گیا۔ رواں برس جون تک عالمی قرضہ 296 کھرب ڈالر تھا جو اب 300 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل کی منتظمہ ویرا چاپلن نے وباء کے دوران قرضے کے اضافے کا جواز دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالی معیشت کو سہارا دینے کے لیے انتہائی ضروری تھا، اب بھی اگر قرضوں پر سود کم کر دیا جائے تو شدید پریشانی سے بچا جا سکتا ہے لیکن اگر فوری ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ کورونا ویکسین کے فوری ہر خاص و عام تک پہنچانے پر توجہ دلاتے ہوئے خاتون ماہر معیشت کا کہنا تھا کہ اگر اسکی فوری اور مساوی ترسیل کو یقینی نہ بنایا گیا تو گرتی معیشت مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ لوگوں کو کام پہ واپسی کے لیے فوری وباء سے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا۔

جن ممالک میں معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہو گیا ہے ان میں قرضے اور قومی پیداوار میں بگڑتے تناسب کو سنبھالنے میں مدد ملی ہے لیکن صورتحال تاحال وباء سے پہلے جیسی حالت تک نہیں پہنچی اور اسے ابھی کافی وقت لگ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی قرضے میں ابھی مزید اضافہ متوقع ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us