پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

بنگلہ دیش: قرآن کی توہین پر شروع ہونے والے فسادات کنٹرول سے باہر، حالات انتہائی کشیدہ، 9 افراد ہلاک، 71 مقدمے درج، 450 افراد گرفتار، حکومت کا ریاست کو دوبارہ سیکولر بنانے پر غور

بنگلہ دیش کی پولیس نے مندروں اور ہندو آبادی کی املاک پر حملوں کے الزام میں 450 سے زائد مسلم شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ مسلم اکثریتی ملک میں مذہبی بنیادوں پر دنگوں کی یہ ایک بدترین مثال ہے۔ اس سے قبل 2017 میں گستاخی رسول کے الزام میں بھی ایک شہری کو ہجوم نے قتل کر دیا تھا، تاہم حالیہ واقعے کے بعد حالات انتہائی کشیدگی کا شکار ہیں۔

کچھ روز قبل ہندوؤں کے تہوار درگا پوجا کے جلوس میں دیوی کی مورتی کے قدموں کے نیچے سے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کی جلد برآمد ہوئی تھی۔ جس پر مسلمان شدید برہم ہو گئے اور حکومت سے فوری واقعے میں ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ ابھی واقعے کی تحقیقات جاری تھیں کہ ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہو گئے اور لوگوں نے جتھوں کی صورت میں ہندوؤں پر حملے شروع کر دیے۔

انتظامیہ حالات کو سنبھالنے کی پوری کوشش کر رہی ہے لیکن انہیں شبہہ ہے کہ کیونکہ ابھی تحقیقات جاری ہیں اور اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے، لہٰذا حالات کو کنٹرول رکھنا مشکل رہے گا۔ انتظامیہ نے اب تک 71 مقدمے قائم کیے ہیں اور مجموعی طور پر 450 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

مختلف ذرائع کے مطابق دنگوں میں کچھ لوگوں کی جان بھی گئی ہے جن میں 5 ہندو اور 4 مسلمان شامل ہیں، لیکن تاحال انتظامیہ کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

حکومت شہریوں سے پرامن رہنے اور انتظامیہ پر اعتماد کرنے کی درخواست کر رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقع سزا دی جائے گی۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی تعداد صرف 10٪ ہے لیکن یہ اہم عہدوں اور کاروباروں کے مالک ہیں اور اکثر مسلمان ان کے استحصال کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔

عوامی مظاہروں اور فسادات کے باعث عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی برادری کا مطالبہ ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت اقلیتی برادری کے تحفظ کو یقینی بنائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کروائے۔

اقوام متحدہ نے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہونے پر کوئی تبصرہ نہیں دیا۔

دوسری طرف شیخ حسینہ کی حکومت نے ملکی آئین میں ترمیم کا اعلان کرتے ہوئے 1988 میں اسلام کو ملکی مذہب قرار دینے کی ترمیم کو ختم کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ اور دوبارہ 1972 کی سیکولر ریاست بنانے کا اعلان کیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us