پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

ترک صدر ایردوعان کا اندرونی سیاست میں مداخلت پر 10 مغربی ممالک کے سفراء کو ناپسندیدہ قرار دینے کا فیصلہ

ترک صدر رجب طیب ایردوعان نے وزیر خارجہ میولود چاؤش اوعلو کو ہدایت کی ہے کہ اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والے ممالک کے سفیروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیا جائے۔ ترک صدر کی جانب سے سخت کارروائی کا اعلان ان ممالک کی جانب سے ملکی سیاست میں انتشار پھیلانے اور کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کرنے والے ترک نژاد فرانسیسی شہری عثمان کاوالا کی کھلی حمایت میں مشترکہ مذمتی بیان کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ ان 10 ممالک میں جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، نیدرلینڈ، نیوزی لینڈ، ناروے، سویڈن اور امریکہ شامل ہیں۔ مغربی اتحادی ممالک نے مشترکہ بیان میں کاوالا کی رہائی کا مطالبہ کیاہے۔

ایک عوامی تقریب سے خطاب میں صدر ایردوعان کا کہنا تھا کہ میں نے وزیرخارجہ کو ہدایات کی ہیں کہ وہ ہمارے اندروی معاملات میں مداخلت رکنے والے ممالک کے سفراء کو ناپسندیدہ قرار دینے پر کام کریں اور اس پر جلد از جلد عمل ہو جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ عثمان کاوالا سن 2017 سے ترک جیل میں قید ہے اور اس پر کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت اور ملک میں انتشار پھیلانے کے الزامات پر مقدمات چل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کاوالا پر 2013 میں غازی پارک ہنگاموں اور 2016 کی فوجی بغاوت کی حمایت کا بھی الزام ہے۔

ترک حکومت نے مغربی ممالک کے بیان پر مزید کہا ہے کہ اس غیر ذمہ دار بیان کو مسترد کیا جاتا ہے، مغربی ممالک ایک دہشت گرد کے مقدمے کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے باز رہیں۔

مغربی ممالک نے مشترکہ بیان کاوالا کی گرفتاری کے 4 سال مکمل ہونے پر جاری کی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us