ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

سابق سعودی جاسوس اہلکار سعد الجبری کا تہلکہ خیز انٹرویو: سعودی شہزادے محمد بن سلمان پر قتل کے منصوبے کا الزام، شہزادے کو بے رحم نفسیاتی مریض قرار دے دیا

سعودی عرب کے جاسوس ادارے کے سابق اہلکار سعد الجبری نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو خصوصی انٹرویو میں ولی عہد محمد بن سلمان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ الجبری نے محمد بن سلمان کے بارے میں بے رحم نفسیاتی مریض کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔

الجبری کو سابق ولی عہد اور جاسوس ادارے کے سربراہ محمد بن نائف کا قریبی مانا جاتا ہے، جو محمد بن نائف کی 2017 میں مبینہ برطرفی کے فوری بعد ملک سے فرار ہو کر کینیڈا منتقل ہو گئے تھے۔ الجبری نے انٹریو میں کہا ہے کہ محمد بن سلمان انکی جان کا دشمن ہے اور انہیں قتل کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ انہوں نے انٹرویو کا آغاز؛ “میں یہاں ایک نفیساتی مریض کے بارے میں بات کرنے آیا ہوں، جو مشرق وسطیٰ میں بڑے وسائل کا مالک ہے اور نہ صرف اپنے لوگوں بلکہ امریکیوں اور پوری دنیا کے لیے بڑا خطرہ ہے۔” کے الفاظ سے کیا۔

الجبری کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان کے پاس جذبات نام کی کوئی چیز نہیں ہے، اور وہ ایسا جاہل ہے جو اپنے تجربوں سے بھی کچھ نہیں سیکھتا، ہم نے دیکھا ہے کہ وہ کتنی بے رحمی سے لوگوں کو مارتا ہے۔ الجبری نے دعویٰ کیا کہ محمد بن سلمان نے انکے دو بیٹوں اور داماد کو پکڑ رکھا ہے اور ان کی رہائی کے بدلے واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

سعودی حکومت نے الزامات کی تردید کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ الجبری مالی بدعنوانیوں میں ملوث رہا ہے، اور اس پر 3 ارب ڈالر کے غبن کا الزام ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ الجبری نے شاہی خاندان کے پیار اور الفت کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور دولت لوٹ کا فرار ہو گیا۔

الجبری نے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ محمد بن سلمان نے 2014 میں محمد بن نائف کی موجودگی میں ٹھٹھہ کیا تھا کہ وہ کبھی کبھی سوچتا ہے کہ شاہ عبداللہ کو ذہر دے کر مار دے تاکہ اسکے باپ کے اقتدار کے لیے رستہ صاف ہو جائے۔ الجبری کے مطابق وہ یہ دعوے سے نہیں کہہ سکتا کہ اس نے یہ صرف بات کی یا اس پر عمل بھی کیا۔ الجبری کے مطابق اس واقعے کی ایک ریکارڈنگ بھی موجود ہے اور اسے پتہ ہے وہ ریکارڈنگ کہاں ہے۔

واضح رہے کہ شاہ عبداللہ سن 2015 میں طبی موت مرے تھے اور اس کے بعد انکے 85 سالہ بھائی سلمان بن عبدالعزیز نے شاہی خاندان کی طرف سے اقتدار سنبھالا تھا۔ تاہم انکی عمر اور صحت کے باعث محمد بن سلمان ہی حکومتی امور چلاتے ہیں۔ محمد بن سلمان تب سے ہی نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر میں انتہائی متنازعہ شخصیت ہیں۔ ملک میں انکو ناپسند کرنے کی وجوہات میں متعدد اسلامی شعار کو ختم کرتے ہوئے جدیدیت کو متعارف کروانا ہے۔ شاہی خاندان میں انکی مخالفت کی بڑی وجوہات میں خاندان کے متعدد افراد جن میں بڑی عمر کے افراد بھی شامل ہیں کو گرفتار کرنا اور قید و بند کی صعوبتوں میں رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ یمن میں امریکی ایماء پر عسکری کارروائی بھی سعودی عرب میں انتہائی ناپسند کی جا رہی ہے۔

استنبول میں سعودی کونسل خانے میں معروف صحافی اور حکومتی ناقد جمال خاشقجی کا قتل دنیابھر میں اخبارات کی سرخیوں کی رونق بنا، جس کے قتل میں براہ راست محمد بن سلمان کا ہاتھ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ الجبری کے مطابق اسکے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا لیکن وہ ایک دوست کی مدد سے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اور جب خاشقجی کا قتل ہوا تو اسے بھی پیغام بھیجا گیا کہ سعودی سفارت خانے کسی صورت مت جاؤں۔ الجبری کے مطابق کینیڈا اسکے قتل کے لیے آنے والے جتھے کے پاس سے مشکوک آلات ملے جن میں ڈی این کا تجزیہ سمیت دیگر حساس آلات بھی شامل تھے، جس پر کینیڈی ہوای اڈے سے ہی جتھے کو واپس بھیج دیا گیا۔

الجبری نے انٹرویو میں سعودی شہزادے ممد بن سلمان کو دبے الفاظ میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دور رہا جائے ورنہ اس کے پاس اور بہت سے ایسے راز ہیں جو باہر آنے پر مشکلات پیدا کریں گے۔ الجبری نے کہا کہ ایک نہ ایک دن وہ مارا جائے گا کیونکہ جب تک وہ زندہ ہے بن سلمان کو چین نہیں آئے گا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us