پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

امریکہ میں دوا ساز نجی کمپنی کی لیبارٹری سے غیر قانونی طور پر محفوظ کردہ چیچک وائرس کے 15 نمونے برآمد: لیبارٹری بند، تحقیقات شروع

امریکی ایف بی آئی اور سی ڈی سی نے ریاست پنسلوینیا میں ایک بڑی ادویات ساز کمپنی میرک کی لیبارٹری سے غیر قانونی طور پر محفوظ کردہ چیچک کے جراثیموں کے مشتبہ نمونے برآمد کیے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق جراثیم ٹیکوں کی 15 شیشیوں میں تھے۔ ادارے نے فوری طور پر محکمہ داخلہ کو اطلاع دیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق حکومت نے لیبارٹری کو فوری مکمل بند کر دیا ہے اور سی ڈی سی یعنی قومی ادارہ برائے انسداد بیماری نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

میرک کے مطابق کمپنی کا عملہ نمونے سے متاثر نہیں ہے تاہم انتظامیہ کو تشویش ہے کہ نمونے کہاں اور کیوں تیار کیے گئے؟ میرک کی پنسلوینیا میں عالمی معیار کی 2 لیبارٹریاں ہیں تاہم اسے جان لیوا بیماری پر تحقیق کرنے اور اسکے جراثیموں کے نمونے رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ چیچک ایک جان لیوا بیماری ہے جو ویریولا نامی وائرس سے لاحق ہوتی ہے، ماہرین کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں بھی اسکی وباء کم از کم 30٪ آبادی کو ختم کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ چیچک کی خطرناک قسم عام نہیں اور 1970 کے بعد سے ویکسین کی مدد سے بیماری پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن اسکے جراثیموں کا میرک کی لیبارٹری میں موجود ہونا ایک سوال ہے۔

عالمی قوانین کے مطابق تحقیق کے پیش نظر چیچک کے جراثیم کو رکھنے کی اجازت روس میں قائم ایک لیبارٹری اور امریکی ریاست جارجیا میں قائم ایک تحقیقاتی مرکز کے علاوہ کسی کو نہیں ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us