پیر, ستمبر 25 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
صدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئےیورپی کمیشن صدر نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر جوہری حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دے دیااگر خطے میں کوئی بھی ملک جوہری قوت بنتا ہے تو سعودیہ بھی مجبور ہو گا کہ جوہری ہتھیار حاصل کرے: محمد بن سلمانمغربی ممالک افریقہ کو غلاموں کی تجارت پر ہرجانہ ادا کریں: صدر گھانامغربی تہذیب دنیا میں اپنا اثر و رسوخ کھو چکی، زوال پتھر پہ لکیر ہے: امریکی ماہر سیاستعالمی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ: دنیا، بنکوں اور مالیاتی اداروں کی 89 پدم روپے کی مقروض ہو گئی

امریکہ کے افغانستان میں چھوڑے ہتھیار دہشت گرد پاکستانی ریاست کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، فوری اقدامات کی ضرورت ہے: نگران وزیراعظم پاکستان

پاکستان کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے تنبیہ جاری کی ہے کہ 2021 میں افغانستان سے افراتفری میں انخلاء کے باعث چھوڑے گئے امریکی ہتھیار تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگ گئے ہیں اور اب پاکستانی ریاست کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔

امریکی حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق انخلاء کے دوران امریکہ افغانستان میں 7 ارب ڈالر کے ہتھیار چھوڑ گیا تھا، جس میں ہوائی جہاز، بکتر بند گاڑیاں، خصوصی مواصلاتی آلات اور دیگر خودکار ہتھیار بھی شامل ہیں۔

آزاد ذرائع کا ماننا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیاروں کی مالیت 7 ارب ڈالر سے کئی گناء زیادہ ہے، اور بائیڈن انتظامیہ اس حوالے سے درست معلومات چھپا رہی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ مقداد 85 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ تاہم حالیہ امریکی انتظامیہ اس دعوے کو مسترد کرتی ہے اور ان کے مطابق خطرناک ہتھیاروں کو تباہ یا ناقابل استعمال بنا کر چھوڑا گیا تھا۔

پاکستانی انتظامیہ نے دنیا سے اس حوالے سے مشترکہ پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور خصوصاً جدید ہتھیاروں پہ فوری پابندی کا مطالبہ کیا ہے، وزیراعظم کاکڑ نے اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت والے آلات اور دیگر ایسے ہتھیاروں کو فوری قبضے میں لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

eleven + 7 =

Contact Us