جمعرات, اکتوبر 29 Live
Shadow

مشینی ذہانت فضاؤں میں بھی انسانی ذہانت سے بھڑ جانے کو تیار

عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے میدان میں چین اور امریکہ کی سبقت لے جانے کی کشمکش زوروں پر ہے۔ اسی دوڑ میں امریکہ نے ایک نیا منصوبہ متعارف کرواتے ہوئے خودکار لڑاکا طیاروں کا دُوبدو فضائی مقابلہ روائیتی پائلٹ والے لڑاکا طیارے سے کروانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ انکشاف امریکی محکمہ دفاع کے مرکز برائے محکمہ مصنوعی ذہانت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جان شاناہان نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ تقریباً ایک گھنٹہ طویل انٹرویو مچل انسٹی ٹیوٹ فار ایئرو اسپیس اسٹڈیز کے پروگرام ’’ایئرو اسپیس نیشن‘‘ کے لیے کیا گیا تھا۔ جنرل شاناہان نے اس انٹرویو میں عسکری طیاروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق جہاں بہت سی دوسری باتیں کیں، وہیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے مرکز میں مکمل خودکار و خود مختار لڑاکا طیاروں پر کام اختتامی مراحل میں داخل ہوچکا ہے اور جلد ہی ہمیں میدانِ جنگ میں بھی ’’مسلح مصنوعی ذہانت‘‘ دکھائی دے گی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں