پیر, ستمبر 28 Live
Shadow

لیسسٹرشائر میں 10،000 افراد کے گلے میں غلامی کا طوق:پورے برطانیہ میں یہ تعداد دس گنا زیادہ ہوسکتی ہے: ٹوری رکن پارلیمینٹ

لیسیسٹربرطانیہ کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے جدید طرزغلامی کے 10،000 سے زیادہ متاثرین ہوسکتے ہیں اورملک بھر میں ایسے 100،000 متاثرین موجود ہیں۔ لیسسٹر لوکل اتھارٹی کے اندر ایک “منظم ناکامی” ہے جس کے باعث کئی سالوں سے شہر بھر میں ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں ہزاروں مزدوروں کا کھلے عام استحصال ہو رہا ہے۔

نارتھ ویسٹ لیسسٹر شائر کے کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ اینڈریو بریجن نے پیر کو اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق لگ بھگ 10،000 افراد ایسے ہیں جو مؤثر طریقے سے جدید غلامی کی زد میں ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو انٹرنیٹ پرخوردہ فروشوں کو کپڑے مہیا کرتے ہیں۔ بریجن نے اہم حکومتی شخصیات کو اس “خاموش سازش” کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ پولیس کے اعداد و شمار پر مبنی ایک رپورٹ کے مطابق آج برطانیہ میں ایک لاکھ سے زیادہ غلام ہوسکتے ہیں۔

سنٹر فار سوشل جسٹس تھنک ٹینک اور انسداد غلامی چیریٹی جسٹس اینڈ کیئر کے ذریعہ کئے گئے تجزیوں سے خبردار کیا گیا ہے کہ کوویڈ 19 وبائی مرض کے پھیلاؤ کے دوران برطانوی حکومت کی ملازمت برقرار رکھنے کی اسکیم معاملات کوبگاڑنے کا سبب بنی ہے۔ رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ اس اسکیم کو مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے نیٹ ورکس نے لوگوں کے استحصال کے لیے استعمال کیا ہے ۔ انھوں نے غلامی کا نشانہ بننے والے متاثرین جو اپنی ملازمت برقرار رکھنے کے لیے کام کرنے پر مجبور تھے کو فرضی ادائیگیوں کا دعوی بھی کیا ہے ۔

تحقیق کے مصنفین نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ اگر پورے برطانیہ سے ان معاملات میں جو پولیس کو رپورٹ کیے جاتے ہیں ،اعدادو شمار اکٹھے کیے جائیں تو غلامی کا نشانہ بننے والے ان افرد کی تعداد کم از کم 99،469 ہو سکتی ہے تاہم ، اس میں متاثرین کی پوشیدہ اکثریت شامل نہیں ہے اور جن کی شناخت ابھی باقی ہے۔ انسانی قیمت کے علاوہ ، غلامی کی وجہ سے ملک کو شدید معاشی نقصان بھی ہوتا ہے۔ 2017 میں ، برطانوی حکومت نے اندازہ لگایا تھا کہ 10،000 سے لے کر 13،000 تک متاثرین کے اعدادوشمار کی بنیاد پر ملک کو غلامی کرنے کی مالی لاگت £ 4.3 بلین تک تھی۔

حالیہ ہفتوں میں کورونا وائرس کےباعث برطانیہ کا پہلا لاک ڈاؤن والا شہر بننے کے باوجود کپڑوں کی فیکٹریوں میں کاروباری سرگرمیوں کے جاری ہونے کی افواہوں کی گردش کے بعد لیسسٹرسخت نگرانی کی زد میں ہے۔ لیسٹر کی ٹیکسٹائل انڈسٹری سے متعلق وائٹل بلورز کا کہنا ہے کہ ابتدائی قومی لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن آرڈر سنبھالنے کے لئے کچھ فیکٹریوں نے سماجی فاصلوں یا حفاظتی اقدامات کا انتظام کیے بغیراپنے عملے کی تعداد تقریباً دگنی کردی۔ تاہم ، لیسسٹر سٹی کونسل نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 میں اضافے کا ان کاروباری مقامات اور فیکٹریوں سے پھیلنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

لیسیسٹر شہر کے میئر ، سر پیٹر سولوسبی ، حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل نہ کروانے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کوویڈ 19 کے اعداد و شمار کی دستیابی نہایت سست روی کا شکار ہے ۔ پیر کو بی بی سی بریکفاسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ، سولوسبی نے کہا ، “یہ بات برطانوی محکمہ صحت کے عہدے داران کے ساتھ گذشتہ ہفتے ہونے والے مباحثوں سے واضح ہوگئی ہے کہ انہیں ابھی تک خود نہیں پتہ ہے کہ وہ زمین پر کس چیز پیمائش کر رہے ہیں۔ اس میں ان کی کامیابی کا معیار کیا ہے؟

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں