اتوار, جنوری 16 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

معاشی دباؤ یا بڑھتی پھوٹ: امریکہ نے جرمنی سے فوج نکال کر دیگر ممالک میں بھیجنا شروع کر دی

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے صدر ٹرمپ پر نیٹو اتحاد کو کمزور کرنے کے حوالے سے بھڑتی ہوئی تنقید کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس تنقید کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔ معاملہ محض اتنا ہے کہ اتحادی بڑھنے پر سرحدیں پھیل جاتی ہیں، نیٹو اتحاد میں نئے ممالک شامل ہوئے ہیں، روس کو اس کی موجودہ سرحد پر روکنا ہماری اجتماعی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

پینٹاگون سربراہ نے مقامی ذرائع ابلاغ فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ جرمنی میں مقیم ایک تہائی امریکی فوجی اہلکاروں کو مشرق میں روس کی سرحد کے ساتھ تعینات کیا جائے گا، تاکہ روسی اثر و رسوخ کو اسکی سرحدوں پر ہی روکا جا سکے۔

ٹرمپ انتظامیہ کو جرمنی میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے پر امریکہ اور یورپ کی سیاسی و عسکری اشرافیہ خصوصاً لبرل طبقے کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اور کہا جا رہا ہے کہ امریکی اقدام سے نیٹو اتحاد کمزور ہو گا۔ تاہم پہلی بار ناقدین کو جواب دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے دفاعی امور کے ذمہ دار مارک ایسپر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ پر ہونے والی تنقید کی توثیق نہیں کی جاسکتی۔ امریکہ کا ارداہ جرمنی سے افواج کو مشرق کی جانب پولینڈ، رومانیہ اور بالٹک ریاستوں یعنی اسٹونیا، لیٹویا اور لتھووینیا میں منتقل کرنا ہے۔

گفتگو میں انہوں نے نیٹو اتحادیوں خصوصاً جرمنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو اتحاد کو حقیقت میں یورپی ممالک کمزور کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک دفاع میں اپنا مالی حصہ نہیں ڈال رہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی مین اب بھی سب سے زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں۔ تاہم اسکی جانب سے مالی معاونت اتنی نہیں جتنی ہونی چاہیے۔

امریکی ذمہ دار نے دباؤ دیتے ہوئے کہا کہ اتحادی افواج اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہیں، تمام اتحادیوں کو اپنے حقوق منصفانہ طور پر ادا کرنے چاہیے۔

ایسپر مالی معاملات پر یورپ پر دباؤ بڑھانے کے حوالے سے اپنی ایک حالیہ تقریر پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر یورپی ممالک براعظم میں امن قائم رکھنے کے لیے اپنا منصفانہ حق ادا نہیں کرتا تو اس سے یورپ میں بے امنی پھیلانے والوں کو مدد ملے گی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us