منگل, اکتوبر 20 Live
Shadow

عمران حکومت نے مودی اورعالمی دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے: افغان طالبان اور ہندوستان مخالف گروہوں پر مزید پابندیاں عائد

پاکستان نے جمعہ کی شب ہندوستان اور مغربی ممالک کو ناپسند درجنوں افراد پر مالی، سفری اور دیگر پابندیاں عائد کی ہیں، فہرست میں طالبان کے وہ رہنما بھی شامل ہیں جو افغان امن مذاکرات میں شامل ہیں، اور ماضی میں طالبان حکومت میں وزراء اور اضلاع کے گورنر رہ چکے ہیں۔ نمایاں افراد میں ملا عبدالغنی برادر اور حقانی نیٹ ورک کے موجودہ سربراہ سراج الدین حقانی سمیت گروہ کے 88 سے زائد افراد بھی شامل ہیں۔

پابندی کا شکار افراد کے اثاثے ضبط کر لیے گئے ہیں، ان کے کھاتے منجمد کر دیے گئے ہیں، ان پر سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جبکہ ہتھیار رکھنے اور خریدنے پر بھی پابندی ہو گی۔،

مختلف عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق پاکستان کا اقدام فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس (یف اے ٹی ایف) کی طرف سے ممکنہ طور پر سیاہ فہرست میں ڈالے جانے سے بچنے کی کوشش میں کیا گیا ہے۔ پیرس میں قائم ادارے کی سیاہ فہرست میں شامل ہونے کا مطلب تھا کہ پاکستان کو عالمی اداروں سے ادھار لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

پاکستان کافی سالوں سے مغربی ممالک کے زیر تحت قائم ادارے کی گرے فہرست میں شامل ہے، اور مسلسل مذاکرات کی صورت میں اپنا مؤقف پیش کرتا آرہا ہے۔ تاہم گرے سے سفید فہرست میں جانے کے لیے پیرس گروپ کے دیے گئے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری تھا، جس میں مالی ضابطہ کاریوں کے لیے قانون سازی اور پابندیوں جیسے دیگر اقدامات شامل تھے۔

اب تک دنیا میں صرف دو ممالک، ایران اور شمالی کوریا ایف اے ٹی ایف کی سیاہ فہرست میں شامل ہیں، تاہم ہندوستان اور کچھ دیگر ممالک کے دباؤ پر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر بھی سیاہ فہرست میں ڈالے جانے کی تلوار لٹکا رکھی تھی۔ یوں دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے عمران خان حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط مان لی ہیں، اور مجلس شوریٰ میں قانون سازی کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور مغربی ممالک کو ناپسند شخصیات پر مالی پابندیاں لگانے جیسے اقدامات کرنا بھی شروع کر دیے ہیں۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے طالبان پر پابندیوں کے نفاذ کے فیصلے کا وقت زیادہ اہم ہے۔ اب جب کہ افغان امن مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہورہے ہیں، تو ایسے میں پاکستان کی جانب سے یہ سخت اقدام مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ جس سے طالبان کی طرف سے ناراضگی اور بداعتمادی کا اظہار بھی ممکن ہے۔ تاہم اب تک طالبان کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں نے پاکستانی حکومتی اہلکاروں کے توسط سے مزید دعویٰ کیا ہے کہ پابندی میں تحریک طالبان پاکستان اور ملک کی دیگر کالعدم تنظیموں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ہندوستان مخالف گروہوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ جن میں نمایاں نام حافظ سعید، مسعود اظہر، داؤد ابراہیم، ذکی الرحمٰن لکھوی سمیت دیگر افراد بھی شامل ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں