بدھ, اکتوبر 21 Live
Shadow

جدید شہری زندگی کے باعث جانوروں سے انسانوں میں بیماریوں کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا: تحقیق

وبائی امراض پرتحقیق کرنے والے محققین نے تنبیہ کی ہے کہ جانوروں سے انسانوں میں بیماریاں منتقل ہونے کے خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی تلاش میں کلیدی کردار ادا کرنے والی محقق سارہ گلبرٹ کا کہنا ہے کہ ہماری جدید طرز زندگی کی وجہ سے جانوروں سے انسانوں میں بیماریاں پھیلنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر گنجان آبادیوں میں اس کا خطرہ شدید ہو گیا ہے۔ جبکہ بین الااقوامی سفر میں اضافے و تیزی کے ساتھ ساتھ آبادیوں میں قدرتی ماحول کی کمی نے بھی خطرے کو شدید کر دیا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ کورونا وائرس کا ماخذ تاحال ایک راز ہے لیکن کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس چمگادڑوں سے کسی اور جانور کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

حال ہی میں دنیا بھر میں پھیلنے والی بیماریاں جیسے کہ ایبولا، سارس اور ویسٹ نائل وائرس بھی جانوروں سے شروع ہوئے لیکن کووڈ 19 ان میں سب سے زیادہ پھیلنے والا وائرس ثابت ہوا ہے۔

ماہرین جنگلی جانوروں کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کی تجارت حیاتیاتی تنوع کو لاحق سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال جانوروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے تقریباً ایک ارب لوگ بیمار اور لاکھوں ہلاکتیں ہوتی ہیں، جبکہ دنیا بھر میں سامنے آنے والے 60 فیصد انفیکشن جانوروں سے انسانوں میں پھیل رہے ہیں۔ اور ان بیماریوں سے پھیلنے والا خطرہ مستقبل میں ختم ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ دنیا سکڑتی جا رہی ہے اور باہمی رابطے مزید آسان ہوتے جا رہے ہیں۔

وبائی امراض کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید طرز زندگی کی وجہ سے مستقبل میں جانوروں سے منتقل ہونے والی بیماریوں کو مزید پھیلتا دیکھیں گے۔ خصوصاً گنجان آبادیوں میں ان میں ہوشربا اضافہ ہو گا جبکہ زیادہ سفر اور جنگلات کی کمی بھی وباؤں کو پھیلانے میں مددگار ثابت ہو گی۔

گذشتہ مہینے اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی تنبیہ کی تھی کہ اگر جنگلی حیات اور ماحول کے تحفظ کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو جانوروں سے پھیلنے والی بیماریاں بڑھتی رہیں گی۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی منصوبے کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ وائرس کے پیتھوجن کا جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونا فطری ماحول کی تباہی، جنگلی زمینوں پر تعمیرات، جنگلی حیات کے استحصال، قدرتی وسائل کی تلاش اور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

فلو کی ویکسین کی تیاری میں شریک ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی وباؤں کے علاوہ جدید طرز زندگی مستقبل میں انفلوئنزا کے خطرے کو بھی بڑھا دے گی، جیسا 2017 اور 2018 میں دیکھا گیا تھا۔ واحد امریکہ میں 2017 اور 2018 کے سرما کے دوران انفلوئنزا نے تقریباً 80 ہزار افراد کو ہلاک کیا تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ مستبقل قریب میں ایک اور فلو وبا کی شکل اختیار کرسکتا ہے، یا یہی دوبارہ واپس آئے گا۔ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ اس کی کون سی ذیلی قسم ہو گی۔ اس لیے ماہرین اب فلو کی ایسی ویکسین پر کام کر رہے ہیں جو یونیورسل ہو، اور فلو کی تمام اقسام کے خلاف مؤثر ہو۔ اور اگر ایسا ہو گیا تو ایک ویکیسن کی تخلیق وائرس کی ذیلی ساخت کی تشخیص کی ضرورت کو ہی ختم کر دے گا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ہر صدی میں فلو سے تعلق رکھنے والی وبائیں کئی بار پھیلتی ہیں، اوران کی کئی اقسام ہیں، یعنی اسے ختم کرنا مشکل ہے۔ انسان نے چیچک کا خاتمہ کر لیا ہے کیونکہ وہ جانوروں میں موجود نہیں ہے۔ پولیو کا خاتمہ بھی قریب ہے۔ خسرے جیسی بیماریاں بھی ختم ہو سکتی ہیں کیونکہ جانوروں میں ان کے ذخیرے موجود نہیں لیکن اس کا اطلاق فلو پر نہیں ہوتا۔ فلو کئی جنگلی جانوروں میں بھی موجود ہے جہاں سے وہ منتقل ہو سکتا اور انسان اس کے ذخیرے سے جان نہیں چھڑوا سکتے۔ یہ انسانوں کو متاثر کرتا رہے گا اور مستقبل میں فلو کی نئی وبائیں بھی پھیل سکتی ہیں۔

کورونا ویکسین کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں ویکسین کتنے وقت تک حفاظت دے سکے گی اس کے بارے میں یقین سے کہنا مشکل ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں