اتوار, April 10 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

نیو یارک: 19٪ نوجوانوں کے مطابق یورپ میں یہودی نسل کشی کے ذمہ دار یہودی خود تھے: سروے

امریکہ میں صہیونی پراپیگنڈے میں ہوتی کمی نے صہیونی لابی کی نیندیں حرام کر دیں ہیں۔ امریکہ میں نئے آگاہی مراکز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دینا شروع کر دیا، کہتے ہیں کہ امریکی تعلیمی نظام آگاہی میں کمی کا ذمہ دارہے۔ صہیونی لابی سے وابستہ اساتذہ کی مدد سے سماجی میڈیا پر بھی مہم تیز کر دی گئی ہے۔

امریکہ میں ایک صہیونی تنظیم نے نوجوانوں میں یہودیوں کی نسل کشی کی آگاہی سے متعلق نیا سروے کیا ہے، جس کے نتائج کو بنیاد بنا کر ملک میں نئے آگاہی مراکز اور اساتذہ کی مدد سے مہم چلائی جا رہی ہے۔

سروے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ کی 11 فیصد عوام جرمنی میں یہودیوں کی نسل کشی کی ذمہ دار خود یہودیوں کو مانتی ہے، جبکہ نوجوان جرمنی کی نازی پارٹی کے مظالم سے بھی آگاہ نہیں۔

سروے امریکہ کی 50 ریاستوں میں کیا گیا، جس میں پہلے حصے میں 20-30 سال کے نوجوانوں اور دوسرے حصے میں 30-40 سالہ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ سروے کا انعقاد یہودیوں کے جرمنی کے خلاف ہرجانے کے دعوے کرنے والی تنظیم نے کیا تھا۔

سروے رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ 63 فیصد نوجوانوں کو علم ہی نہیں کہ یورپ میں ساٹھ لاکھ یہودیوں کا قتل عام کیا گیا۔ جبکہ 36 فیصد کا ماننا ہے کہ یہ تعداد 20 لاکھ یا اس سے کم تھی۔ سروے کے مطابق 48 فیصد امریکی نوجوان نازی جرمنی کے قائم کردہ حراستی مراکز یا یہودیوں کی کچی آبادیوں میں سے کسی ایک کا نام بھی نہیں جانتے۔

سروے رپورٹ میں صہیونی ادارے نے صورتحال کو تشویشناک کہتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ ابھی تو ایسے افراد زندہ ہیں جو اس بربریت کا شکار ہوئے، اور وہ اپنی کہانیاں سنا سکتے ہیں، ہمیں نوجوانوں کو آگاہ کرنا ہوگا۔

صہیونی ادارے کا کہنا ہے کہ انہوں نے سروے کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک علمی مرکز بنایا ہے، جس میں امریکی نوجوانوں کو یورپ میں یہودی نسل کشی سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی، انہیں حراستی مراکز سے متعلق معلومات کے ساتھ ساتھ نسل کشی کی تعداد (ساٹھ لاکھ) کا بھی بتایا جائے گا۔

صہیونی ادارے کا کہنا ہے کہ سروے کے تفصیلی نتائج عمومی نتائج سے بھی زیادہ تشویشناک ہیں، کیونکہ ریاست نیویارک میں یہودیوں کو نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرانے والوں کی تعداد 19 فیصد ہے، لوزیانا، ٹینیسی اور مونٹانا میں 16، ایریزونا، کنیکٹیکٹ، جارجیا، نواڈا اور نیو میکسیکو میں 15 فیصد ہے۔

جبکہ 59 فیصد کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایسا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔

صہیونی تنظیم اور امریکہ میں صہیونی لابی سے وابستہ اساتذہ نے اس کا ذمہ دار امریکی تعلیمی نظام کو دیا ہے۔ اور اس سے متعلق نئی پراپیگنڈا مہم شروع کر دی گئی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us