اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

میں بشار الاسد کو مارنا چاہتا تھا، مجھے جنرل میٹس نے روکے رکھا: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 2017 میں شامی صدر بشار الاسد کو جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر مارنا چاہتے تھے تاہم سابق وزیردفاع جنرل جیمز میٹس نے انہیں روکے رکھا۔

سن 2017 میں شامی صدر بشار الاسد نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جس پر دنیا بھر سے شدید ردعمل آیا، اور افواہیں بھی چلیں کہ امریکہ بشار الاسد کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ تاہم اس وقت صدر ٹرمپ نے ایسے کسی امکان کو رد کر دیا تھا۔

اب فاکس نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بشار الاسد کو ختم کرنے والے تھےتاہم جنرل جیمز میٹس نے انہیں روکے رکھا، صدر ٹرمپ کا سابق وزیر دفاع کے بارےمیں کہنا تھا کہ جنرل میٹس کوئی خاص خوبی کے مالک رہنما نہیں، انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، میں نے اس لیے انہیں وزارت سے فارغ کر دیا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us