جمعرات, اکتوبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
جمناسٹک عالمی چیمپین مقابلے میں روسی کھلاڑی دینا آویرینا نے 15ویں بار سونے کا تمغہ جیت کر نیا عالمی ریکارڈ بنا دیا، بہن ارینا دوسرے نمبر پر – ویڈیویورپی یونین ہمارے سر پر بندوق نہ تانے، رویہ نہ بدلا تو بریگزٹ کی طرز پر پولیگزٹ ہو گا: پولینڈ وزیراعظمسابق سعودی جاسوس اہلکار سعد الجبری کا تہلکہ خیز انٹرویو: سعودی شہزادے محمد بن سلمان پر قتل کے منصوبے کا الزام، شہزادے کو بے رحم نفسیاتی مریض قرار دے دیاملکی سیاست میں مداخلت پر ترکی کا سخت ردعمل: 10 مغربی ممالک نے مداخلت سے اجتناب کا وضاحتی بیان جاری کر دیا، ترک صدر نے سفراء کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیاترکی کو ایف-35 منصوبے سے نکالنے اور رقم کی تلافی کے لیے نیٹو کی جانب سے ایف-16 طیاروں کو جدید بنانے کی پیشکش: وزیر دفاع کا تکنیکی کام شروع ہونے کا دعویٰ، امریکہ کا تبصرے سے انکارترک صدر ایردوعان کا اندرونی سیاست میں مداخلت پر 10 مغربی ممالک کے سفراء کو ناپسندیدہ قرار دینے کا فیصلہبحرالکاہل میں چینی و روسی جنگی بحری مشقیں مکمل – ویڈیونائجیریا: جیل حملے میں 800 قیدی فرار، 262 واپس گرفتار، 575 تاحال مفرورترکی: فسلطینی طلباء کی جاسوسی کرنے والا 15 رکنی صیہونی جاسوس گروہ گرفتار، تحقیقات جاریامریکی انتخابات میں غیر سرکاری تنظیموں کے اثرانداز ہونے کا انکشاف: فیس بک کے مالک اور دیگر ہم فکر افراد نے صرف 2 تنظیموں کو 42 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم چندے میں دی، جس سے انتخابی عمل متاثر ہوا، تجزیاتی رپورٹ

امیر ممالک نے کورونا ویکسین کی آدھی سے زیادہ مقدار خرید لی، غریب ممالک مشکل سے دوچار ہو سکتے ہیں: آکسفام

معروف عالمی فلاحی تنظیم آکسفام نے دعویٰ کیا ہے کہ امیر ممالک کووڈ19 ویکسین کی آدھی سے زیادہ مقدار خرید چکے ہیں۔ جو کہ دنیا کی آبادی کا صرف 13 فیصد ہیں۔ جبکہ دوسری طرف 87 فیصد آبادی کے حامل غریب ممالک تاحال اس حوالے سے کوئی مربوط پالیسی نہیں بنا سکے، اور نہ انکے پاس وسائل ہیں۔ ایسے میں عالمی فلاحی ادارے نے ممالک کو روسی ویکسین کی طرف رحجان کرنے کی مشورہ دیا ہے۔

آکسفام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں کورونا ویکسین تجربے کے مراحل سے گزر کر عوام الناس کے لیے دستیاب ہو گی تاہم اس کی مساوی دستیابی ایک بڑا سوال بن کر ابھر رہا ہے۔ آکسفام کا ماننا ہے کہ ادویات ساز کمپنیاں کشیدہ حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی، اور عوامی بہبود کے لیے اب تک کوئی فکر سامنے نہیں آئی ہے۔

آکسفام کے مطابق ویکسین تیار کرنے والی پانچ بڑی کمپنیوں نے امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین کے ممالک، آسٹریلیا، ہانگ کانگ، ماکاؤ، جاپان، سویٹزرلینڈ اور مقبوضہ فلسطین کی صہیونی انتظامیہ سے معاہدات کر لیے ہیں، اور جلد تجرباتی مراحل سے گزر کر ان ممالک کو ویکسین کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔ ان ممالک نے فی بندہ دوائی کی مقدار بھی عمومی سے زائد رکھی ہے، جیسے کہ برطانیہ نے فی بندہ پانچ خوراکیں کے حساب سے ویکسین کی خریداری کی ہے۔

جبکہ درمیانے طبقےوالے ممالک چین، ہندوستان، بنگلہ دیش، برازیل، انڈونیشیا، میکسیکو نے بھی کسی حد تک خریداری کا سامان کر لیا ہے تاہم کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت اور اور وسائل اشارہ کر رہے ہیں کہ حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ آئندہ ایک سے دو سال میں دنیا کی آدھی سے بھی کم آبادی کو ویکسین دستیاب ہو پائے گی۔

جبکہ نجی کمپنیاں فی خوراک 35ڈالر یعنی تقریباً 6 ہزار روپے تک بیچنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us