ہفتہ, اکتوبر 24 Live
Shadow

شنگھائی تعاون تنظیم – پاکستان کے لیے ایک موقع؟

دنیا میں جس رفتار سے طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اسی رفتار سے عالمی طاقتیں اور دفاعی طور پر غیر محفوظ ریاستیں نہ صرف یہ کہ نئے اتحاد بنا رہی ہیں بلکہ پرانے اتحادیوں کو ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے بھی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ ایسے میں شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم علاقائی تنظیم کے طور پر ابھر رہی ہے۔ تاہم یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان کی علاقائی اتحاد میں شمولیت، اسے دفاعی حصار تو دے سکتی ہے لیکن عمومی رائے کے برعکس اس سے ہندوستان کے ساتھ موجود تنازعات کو ختم کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔

تنظیم کے 8 مستقل ارکان ہیں، جن میں چین، قازقستان، کرغزستان، روس، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور ہندوستان شامل ہیں، جبکہ 4 ریاستیں (افغانستان، بیلاروس، منگولیا اور ایران) فی الوقت بطور مبصر اس کے اجلاسوں میں شریک ہوتی ہیں اور چھے ریاستیں شمولیت کی خواہشمند ہیں اور انکے ساتھ گفتگو جاری ہے۔ ان چھے ریاستوں میں ترکی، آرمینیا، آزربائیجان، کمبوڈیا، نیپال اور سری لنکا شامل ہیں۔

پاکستان کو 2017 میں تنظیم کی مستقل رکنیت دی گئی، اور تقریباً تب سے ہی پاکستان اپنے سیاسی، معاشی اور دفاعی مفادات کے لیے متحرک ہے۔ گزشتہ سال کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والے تنظیمی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے تجویز دی کہ ارکان ممالک کو ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت کرنی چاہیے، اور تنظیم کا ایک مشترکہ مالی امداد کا ڈھانچہ اور بینک بنانا چاہیے تاکہ علاقائی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ پاکستانی وزیراعظم کی تجویز زیر غور ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ ہفتے ماسکو میں ہوئے اجلاس میں کہا کہ وہ غربت کے خاتمے اور تنظیم کے ارکان کے مابین مشترکہ تعاون کو بڑھانے کے لیے اسلام آباد میں ایک تحقیقاتی مرکز تعمیر کرنے کو تیار ہیں۔ جس کی اجلاس میں شریک تمام شرکاء نے نہ صرف حمایت کی بلکہ اس میں تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔

شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان کے معاشی مفادات کے لیے تو مددگار ثابت ہو سکتی ہے تاہم تنازعات پہ گفتگو کے لیے تنظیم میں لائحہ عمل نہ ہونے کے باعث علاقائی تنازعات جوں کے توں رہیں گے۔

ڈاکٹر ظفر نواز جسپال

شنگھائی تعاون تنظیم کے وضح کردہ مقاصد کے تحت تنظیمی چھتری کے نیچے ایسے اقدامات کی حمایت کی جائے گی جو باہمی اعتماد، فائدے، برابری، مشاورت اور تہذیبی رواداری کے ساتھ ساتھ مشترکہ ترقی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں۔ اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے اور سرحدی تنازعات کو نیک نیتی سے سلجھانے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم معاشی ترقی کے لیے تو مددگار ثابت ہو سکتی ہے تاہم پاکستان کے ہندوستان کے ساتھ علاقائی تنازعات کو حل کروانے میں اس سے کوئی امید نہیں کی جاسکتی، کیونکہ تنظیم کے ڈھانچے میں اسکی گنجائش یا حکمت عملی وضح نہیں ہے۔ اگرچہ رکن ممالک اجلاسوں کے دوران الگ سے آپسی معاملات پر بات چیت کر سکتے ہیں، تاہم تنظیم یا دیگر رکن ممالک سیاسی معاملات میں مدد کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماسکو اجلاس میں شاہ محمود قریشی اور جے شنکر نے ملاقات تک گنوارا نہ کی، اور نہ کسی رکن ملک نے ایسا کروانے کی کوشش یا مدد فراہم کی۔

ہندوستان پاکستان کے ساتھ بات چیت کے عمل کو شروع نہیں کرنا چاہتا۔ ستمبر 15، کو ہندوستان نے تنظیم کے اجلاس پہ سیاسی رنگ ڈالنا چاہا اور آن لائن اجلاس میں پاکستان کے سیاسی نقشے کو بنیاد بنا کر بدمزگی پیدا کرنے کی کوشش کی، پر اجلاس کے روسی میزبان نے ہندوستانی اعتراض کو مسترد کر دیا، جس پر ہندوستانی نمائندہ اجیت دیول اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

ماسکو اجلاس کے دوران رکن ممالک نے اتفاق کیا کہ 21ویں صدی میں دفاعی تحفظات اور کووڈ19 سے لاحق خطرات کے باوجود ارکان کے باہمی تعلقات چپکلش کے بجائے باہمی تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھنے چاہیے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ارکان کو خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے سے آگاہ کرے، تاکہ بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنایا جا سکے۔

معیشت کے لیے پاکستان کو گوادر بندرگاہ سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے جو خصوصاً وسطی ایشیا اور شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر ارکان ممالک کے لیے بہترین تجارتی مرکز ہے۔ تنظیم کے ارکان کو منصوبے میں سرمایہ کاری پر ابھارنا چاہیے، اور اس دوران وہاں سمندری حیات کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

تاہم ان تمام مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو معاشی و دفاعی، دونوں میدانوں میں تفصیلی منصوبہ سازی کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے بہترین وقت اب ہے، کیونکہ تنظیم کا اگلا اجلاس نومبر میں متوقع ہے۔

مہمان تحریر – ڈاکٹر ظفر نواز جسپال

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں