ہفتہ, اکتوبر 24 Live
Shadow

گاؤں کی اغوا شدہ بچی کی بازیابی

کچھ عرصہ قبل ہمارے گاؤں میں ایک بدمعاش نے ایک شریف زادے کی نوزائیدہ بچی کو اغوا کر لیا، بچی انتہائی خوبصورت تو تھی ہی جیسی خدا کی دین ہوتی ہے مگر والدین کے لیے وہ دیگر بچوں کی طرح ایک اولاد ہی تھی۔ بدمعاش کی شہر میں بڑے بدمعاشوں کے ساتھ دوستی کے باوجود شریف زادے نے بچی کو واپس حاصل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اور مصدقہ حوالوں کے مطابق اس نے ایک دو دفعہ تو بدمعاش کا گلے بان بھی پکڑ لیا اور خوب پھینٹا بھی چڑھایا، اور بسا اوقات خود بھی خون آلود ہوا، جب کہ ایک بار تو اس کا ایک بیٹا ایسی ایک لڑائی میں شہید بھی ہو گیا، مگر ہمیشہ بدمعاش کے شہری دوست زبردستی صلح اور امن کا ڈھول اس کے گلے میں ڈال دیتے۔

وقت گزرتا گیا، کل کی نوزائیدہ آج کی خوبرو دوشیزہ بن گئی۔ مگر والدین آج بھی اولاد کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اور اب کسی نہ کسی حد تک باپ نے اہل علاقہ کے دیگر شریف زادوں کی حمایت حاصل کرنا بھی شروع کر دی تھی۔ صورتحال سے تنگ آکر بدمعاش نے اپنے شہری دوستوں کے ساتھ ساتھ دھوکے سے بھولی عوام کی حمایت حاصل کرنے کی بھی ٹھانی اور لوگوں میں یہ بیانیہ پھیلانا شروع کر دیا کہ اس شریف زادے سے تو اپنی بقیہ اولاد نہیں سنبھالی جاتی، یہ اس ایک کو واپس لے کر کیا کرے گا؟

گاؤں کی بھولی بھالی عوام میں اس بیانیے کو مشہور کرنے میں بدمعاش کو پانی کی طرح پیسہ بہانا پڑا مگر اس کے لیے کوئی مشکل نہ تھی کیونکہ اب یہ مسئلہ اس کی انا کا بن چکا تھا، اور کچھ مدد اس کے شہری بدمعاش دوست بھی کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک بکاؤ اور بظاہر جدید تعلیم یافتہ نے تو ایک بار یہاں تک کہہ دیا کہ کیونکہ شریف زادے کی بیٹی خوبصورت ہے اس لیے اسے واپس حاصل کرنا چاہتا، بد صورت ہوتی تو کیا پھر بھی اسے حاصل کرنے کے لیے ایسے ہی کوشش کرتا؟ شریف زادہ خاموشی سے سب برداشت کرتا رہا۔ اس کے صبر کی آہ پورے گاؤں کے ساتھ ساتھ علاقے کے امن کے لیے بھی ایک عذاب بن چکی تھی، مگر کچھ بکاؤ لونڈے لونڈیوں کے مطابق یہ شریف زادے اور اس کی بچی کی کی ضد تھی جو گاؤں کی ترقی کی راہ میں حائل تھی۔

شریف زادے کی بچی اگرچہ پلی بڑھی بدمعاش کے گھر تھی مگر باپ کی عمر بھر کی لگن اور جدوجہد نے اسے باپ سے بھی زیادہ قوت ایمانی سے نواز دیا تھا۔ اگر کبھی باپ مایوس ہونے لگتا تو بچی اس کی قوت بنتی، اور اپنے طرف بڑھتے کسی بھی ناپاک ہاتھ کو کاٹ دیتی۔ دوسری طرف کیا بڑا بھائی اور کیا دیگر اہل خانہ، سب اس کرب کے ساتھ بڑے ہوئے کہ وہ معصوم بہن کو ظالم سے آزاد نہیں کروا پا رہے۔ اس احساس نے آئندہ نسلوں میں جگہ پائی اور بے بسی میں بلآخر معاملات خفیہ کارروائیوں تک پہنچ گئی۔

اس پر بدمعاش نے ڈھنڈورا پیٹنا شروع کیا کہ یہ شریف زادہ میری اولاد کو ورغلا کر مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، میرے گھر میں انتشار پیدا کر رہا ہے۔ اغوا کی گئی بچی کو اولاد کہنے کی چالاکی اس نے بڑے شہروں سے لوٹے کچھ لونڈوں سے سیکھی تھی، بچپن سے باہر ہونے کے باعث یہ لونڈے گاؤں کی حقیقی تاریخ سے ناواقف تھے، اور جدیدیت سے ایسے متاثر تھے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا محاورہ مصداق بیٹھے۔ یہ عدل و انصاف پر مبنی انسانی تہذیب سے بیزار کیے ایسے بدمعاش تھے جو بظاہر خوبصورت نظر آنے میں ماہر تھے۔ ان بدمعاشوں کے مطابق باپ ذہنی مریض تھا، کیونکہ جدید تعلیم نے ان کی ”گھر“ کی تعریف ہی بدل دی تھی، اب گھر ایک قید خانہ اور روپیہ باپ سے بھی بڑا تھا۔ یہ لونڈے خود کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قوی سمجھتے تاہم حقیقت میں حکمت و شعور اور انسانی اقدار سے بالکل ناواقف تھے۔

بدمعاش کے رابطے اب دیگر شہروں کے بڑے بدمعاشوں سے بھی ہو رہے تھے اور وہ ان سے گاؤں میں لوٹ مار کی چھوٹ کے عوض صرف اپنی ڈھاک بنائے رکھنے کے لیے تعاون مانگتا تھا۔ ان ظالم کارروائیوں کی وجہ سے آس پاس کے دیگر گاؤں بھی متاثر ہونے لگے، جس کا اثر شریف زادے کی بقیہ اولاد پر بھی پڑنے لگا۔ اب اپنی لخت جگر کو واپس حاصل کرنے کی کوشش میں تیزی کے ساتھ ساتھ اسے بقیہ اولاد کو محفوظ رکھنے کی تگ و دو بھی کرنا پڑ رہی تھی، مگر آفرین ایسی اولاد پر کہ اس نے بھی کبھی باپ کو کمزوری کا احساس نہ ہونے دیا، اور گھرانے کی امن حاصل کرنے کی جدوجہد اب تک جاری ہے۔

اس صورتحال میں بدمعاش کو اس کے شہری بدمعاش دوستوں نے اکسایا کہ تم یوں تو بڑے بدمعاش بنتے ہو پر اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ بچی کے والد کی جگہ اپنا نام لکھوا لو، اور اس کا قانونی باپ بن جاؤ۔ بدمعاش تھا تو پہلے ہی عقل سے پیدل، اور اس لیے آج تک مسئلے کو انصاف سے حل کرنے سے قاصر رہا، مگر اب کی بار اس نے اس انتہائی قدم کو بھی اٹھا لیا اور گاؤں کے رجسٹر میں بچی کے باپ کی جگہ اپنا نام لکھوا دیا۔

ظلم کو خوش نما دکھانے کے لیے جدید جاہل تو دستیاب تھے ہی، لہٰذا شہری لونڈوں سے کہلوانا شروع کر دیا کہ اس تاریخی تنازعے کا یہی حل تھا، اور اس کے عوض اب مجھے تو امن کا نوبل انعام ملنا چاہیے۔ جو مسئلہ بڑے سیانوں سے حل نہ ہوا میں نے ایک بھی گولی چلائے بغیر حل کر دیا۔ بجاؤ تالی۔ مگر قدرت کی دین – ضمیر کی آواز اور ناحق کے خوف نے اسے اتنا ڈرا رکھا ہے کہ اس نے معصوم بچی کو اندھیرے کمرے میں بند کر دیا ہے اور عالمی بد معاش ساتھیوں سے کہا ہے کہ تمہاری ہلا شیری پہ میں نے انتہائی قدم اٹھا تو لیا ہے پر اب تمہیں بھی میرا ساتھ دینا ہے، چاہے اس کے عوض کچھ بھی مانگ لو۔

دوسری طرف باپ اور بیٹی اب مزید پر امید ہیں کیونکہ گاؤں کے ساتھ ساتھ اب علاقائی قوتیں بھی اس عالمی بدمعاش راج سے نجات حاصل کرنے کے لیے سر پر کفن باندھ چکے ہیں – ان شاء اللہ جلد حق کا بول بالا ہو گا!

فہد بن عبد الخالق

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں