جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

آزربائیجان آرمینیا جنگ: سلامتی کونسل میں فریقین کے بغیر بحث ہوگی، ہنگامی اجلاس طلب

سلامتی کونسل نے آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین جاری جنگ پر بحث کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، اجلاس آج بروز منگل ہو گا۔

آزربائیجان اور آرمینیا ہمسایہ ممالک ہیں تاہم آرمینیا کی جانب سے آزربائیجان کے علاقے پر قبضے کے خلاف دہائیوں سے حالات کشیدہ ہیں، دونوں ممالک کے مابین سرحد پر گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے اور متعدد چھوٹی جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔

یاد رہے پاکستان نے آزربائیجان کی خاطر آرمینیا کو بطور ریاست قبول نہیں کیا ہوا، پاکستان کا مؤقف ہے کہ آرمینیا کے آزربائیجان کے علاقے سے قبضہ ختم کرنے تک اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

حالیہ جنگ کے بعد یورپی اتحاد کے پانچ ممالک، فرانس، بیلجیئم، جرمنی، ایسٹونیا اور برطانیہ نے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس میں سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان بحث کریں گے لیکن آزربائیجان اور آرمینیا کو مدعو نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریز دونوں ممالک سے جنگ بندی کی درخواست کر چکے ہیں۔ بڑی عالمی طاقتوں نے بھی جنگ کے بجائے گفتگو سے معاملے کو سلجھانے کے بیانات جاری کیے ہیں۔ تاہم عملی طور پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں فریقین کو مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ ایسی صورت میں منظور ہونے والی قرارداد کے مضمرات کیا ہوں گے۔ ابھی کچھ کہنا مشکل ہے، تاہم اس امر سے دونوں ممالک کی خود مختاری کی عالمی ادارے میں کیا حیثیت ہے، کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ جنگ بروز اتوار اچانک شروع ہوئی جس میں آرمینیا نے ٹینکوں اور جنگی جہازوں سمیت بڑے ہتھیاروں سے ناگورنو کاراباخ پر اچانک حملہ کر دیا۔ علاقے میں جنگ ابھی بھی جاری ہے، اور دونوں فریق جنگ بندی پر تاحال متفق نہیں۔ روسی خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں ممالک سرحد پر اسلحے کی مقدار بڑھا رہے ہیں، حتیٰ کہ خصوصی ٹیکٹیکل میزائل بھی نصب کر دیے گئے ہیں۔ اتحادی ممالک بھی دونوں ممالک کی مدد کر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ آرمینیا کو ایران، روس اور فرانس کی حمایت کے ساتھ ساتھ مدد حاصل ہے۔ جبکہ آزربائیجان کو ترکی، پاکستان، برطانیہ سمیت او آئی سی ممالک کی حمایت دستیاب ہے۔

دونوں ممالک نے نوجوانوں اور غیر متحرک فوج کو بھی تیار رہنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ جبکہ اب تک کی جھڑپوں میں دونوں ممالک سے عسکری و عوامی ہلاکتوں کی خبریں بھی آرہی ہیں، تاہم انکی تعداد واضح نہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں