منگل, جون 15 Live
Shadow
سرخیاں
ترکی: 20 ٹن سونا اور 5 ٹن چاندی کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی سالانہ پیداوار 42 ٹن کا درجہ پار کر گئی، 5 برسوں میں 100 ٹن تک لے جانے کا ارادہحکومت پنجاب کا ویکسین نہ لگوانے والوں کے موبائل سم کارڈ معطل کرنے کی پالیسی لانے کا فیصلہموساد کے سابق سربراہ کا ایرانی جوہری سائنسدان اور مرکز پر سائبر حملے کا اعترافی اشارہ: ایرانی سائنسدانوں کو منصوبہ چھوڑنے پر معاونت کی پیشکش کر دییورپی اشرافیہ و ابلاغی اداروں کے برعکس شہریوں کی نمایاں تعداد نے روس کو اہم تہذیبی شراکت دار و اتحادی قرار دے دیاروسی بحریہ نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین بحری جہاز کا مکمل نمونہ تیار کر لیا: مکمل جہاز آئندہ سال فوج کے حوالے کر دیا جائےگاٹویٹر کو نائیجیریا میں دوبارہ بحالی کیلئے مقامی ابلاغی اداروں کی طرح لائسنس لینا ہو گا، اندراج کروانا ہو گا: افریقی ملک کا امریکی سماجی میڈیا کمپنی کو دو ٹوک جواب، صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندی پر ستائش کا بیانکاراباخ آزادی جنگ: جنگی قیدی چھڑوانے کے لیے آرمینی وزیراعظم کی آزربائیجان کو بیٹے کی حوالگی کی پیشکشمجھ پر حملے سائنس پر حملے ہیں: متنازعہ امریکی مشیر صحت ڈاکٹر فاؤچی کا اپنے دفاع میں نیا متنازعہ بیان، وباء سے شدید متاثر امریکیوں کے غصے میں مزید اضافہچین 3 سال کے بچوں کو بھی کووڈ-19 ویکسین لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیاایرانی رویہ جوہری معاہدے کی بحالی میں تعطل کا باعث بن سکتا ہے: امریکی وزیر خارجہ بلنکن

نظام درہم برہم ہوچکا، غیر قانونی طریقوں سے برطانیہ آنے والوں کو پناہ نہیں دی جائےگی: برطانوی وزیر داخلہ

برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے مہاجرین سے متعلق ملکی قوانین بدلنے کا عندیا دیا ہے۔ ایک مقامی نشتریاتی ادارے سے گفتگو میں پریتی پٹیل کا کہنا تھا کہ وہ جلد پناہ گزینوں کے لیے دو تہی نظام متعارف کروانے والی ہیں، جس کے تحت ملک میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والوں کو شہریت نہیں دی جائے گی۔

پریتی پٹیل کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پناہ لینے والوں کی بڑی تعداد مافیا اور غیر قانونی ایجنٹوں کے ذریعے ملک میں داخل ہوتی ہے، اس عمل کی حوصلہ شکنی کےلیے قوانین میں ردوبدل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایسے افراد کو بھی پناہ نہیں دی جائے گی جنہیں انتطامیہ اپنی تحقیقات میں جھوٹ یا دھوکہ دہی سے پناہ کی متلاشی پائے گی۔

برطانوی وزیر داخلہ نے قانون کی وضاحت میں کہا کہ ملکی نظام درہم برہم ہو چکا ہے، مافیا کی مدد سے برطانیہ میں داخل ہونے اور پناہ لینے والے افراد حقیقی حقداروں کے حق کی تلافی کا باعث بنتے ہیں۔ غیر قانونی طریقوں سے داخل ہونے والے اور قانونی طریقے سے داخل ہونے والوں کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔

مساوی سرحدی قانون آئندہ سال اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ جس کے تحت غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے ہر فرد کی درخواست کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا اور انتظامیہ اپنی تسلی کے بعد ہی درخواست گزار کو پناہ دے گی، وگرنہ درخواست گزار کو واپس بھیج دیا جائے گا۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ نئے قانون میں پناہ کی درخواست مسترد ہونے پر نظرثانی کی درخواست کی کھلی اجازت کے قانون میں بھی ترمیم کی جائے گی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق وزارت داخلہ افریقہ اور جنوبی امریکہ کے درمیان بحر اوقیانوس میں واقعہ جزیرے اسینشن پر خصوصی کیمپ بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے، جہاں پناہ گزینوں کو انکی درخواست قبول ہونے تک رکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ جزیرہ اسینشن برطانیہ سے 4418 میل یعنی 7110 کلومیٹر کی مسافعت پر واقع ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us