منگل, اکتوبر 19 Live
Shadow
سرخیاں
نیٹو کے 8 روسی مندوبین کو نکالنے کا ردعمل: روس نے سارا عملہ واپس بلانے اور ماسکو میں موجود نیٹو دفتر بند کرنے کا اعلان کر دیاشام اور عراق سے داعش کے دہشت گرد براستہ ایران افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں، جنگجوؤں سے وسط ایشیائی ریاستوں میں عدم استحکام کا شدید خطرہ ہے: صدر پوتنآؤکس بین الاقوامی سیاست میں کشیدگی و عدم استحکام بڑھانے اور اسلحے کی نئی دوڑ کا باعث ہو گا: چین اور مشرقی ممالک کے خلاف مغرب کے نئے عسکری اتحاد پر روسی ردعملایف بی آئی نے خفیہ کارروائی میں جوہری آبدوز ٹیکنالوجی بیچتے دو فوجی انجینئر گرفتار کر لیےامریکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیوں میں چین سے 15/20 سال پیچھے ہے: پینٹاگون سافٹ ویئر شعبے کے حال ہی میں مستعفی ہونے والے سربراہ کا تہلکہ خیز انٹرویوروسی محققین کووڈ-19 کے خلاف دوا دریافت کرنے میں کامیاب: انسانوں پر تجربات شروعسابق افغان وزیردفاع کے بیٹے کی امریکہ میں 2 کروڑ ڈالر کے بنگلے کی خریداری: ذرائع ابلاغ پر خوب تنقیدہمارے پاس ثبوت ہیں کہ فرانسیسی فوج ہمارے ملک میں دہشت گردوں کو تربیت دے رہی ہے: مالی کے وزیراعظم مائیگا کا رشیا ٹوڈے کو انٹرویوعالمی قرضہ 300کھرب ڈالر کی حدود پار کر کے دنیا کی مجموعی پیداوار سے بھی 3 گناء زائد ہو گیا: معروف معاشی تحقیقی ادارے کی رپورٹ میں تنبیہامریکہ میں رواں برس کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2020 سے بھی بڑھ گئی: لبرل امریکی میڈیا کی خاموشی پر شہری نالاں، ریپبلک کا متعصب میڈیا مہم پر سوال

برطانوی بینک میں محفوظ وینزویلا کے سونے پر حق کا معاملہ: نظرثانی میں صدر نیکولس کی جیت، برطانوی حکومت کی ہار

برطانوی نظرثانی عدالت نے وینزویلا کے ریاستی سونے کی ملکیت کا فیصلہ صدر نیکولس مادورو کے حق میں کر دیا ہے۔ اب وینزویلا کی حکومت کو بینک آف انگلینڈ میں پڑے ایک ارب ڈالر مالیت کے سونے تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔

اس سے قبل برطانوی اعلیٰ عدالت نے حزب اختلاف کے رہنما جوآن گوآئیدو کے حق میں اس بنیاد پر فیصلہ دیا تھا کہ برطانوی حکومت نیکولس مادورو کو ملک کی آئینی حکومت کا سربراہ نہیں مانتی، لہٰذا ملکی اثاثہ جات کے استعمال کی انہیں اجازت نہیں دی جا سکتی۔

واضح رہے کہ برطانیہ جوآن گوآئیدو کو وینزویلا کا عبوری حکمران مانتی ہے، اس بنیاد پر حزب اخلتلاف کے رہنما نے لندن کی اعلیٰ عدالت میں بینک آف انگلینڈ میں موجود ریاستی اثاثہ جات کو منجمند کرنے کی اپیل کی تھی، جسے اعلیٰ عدالت نے منظور کرتےہوئے، جولائی میں فیصلہ ان کے حق میں دے دیا۔

تاہم صدر نیکولس اور وینزویلا کے سرکاری بینک نے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل کی اور مؤقف اختیار کیا کہ عملی طور پر وینزویلا میں صدر نیکولس کی جمہوری حکومت قائم ہے، بینک آف انگلینڈ ایک آزاد ادارہ ہے، جس کا حکومت کے مؤقف سے کوئی تعلق نہیں، عدالتی فیصلہ یا حکومتی دباؤ کا عکاس لگتا ہے، جس سے بینک اور برطانوی عدالت کی ساخت کو نقصان پہنچے گا۔ وینزویلا سرکار کا یہ بی مؤقف تھا کہ عالمی پابندیوں کے نتیجے میں ملکی معیشت بُرے حال میں ہے، اور کورونا سے لڑنےکے لیے حکومت کو ان اثاثہ جات کی سخت ضرورت ہے۔

نظرثانی عدالت نے آزادانہ فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق برطانوی حکومت کے مؤقف سے مختلف ہیں، لہٰذا صدر نیکولس کی حکومت کو سونے کے ذخائر تک رسائی دی جاتی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us