ہفتہ, اکتوبر 24 Live
Shadow

کووڈ19 کا دباؤ: برطانیہ میں عدالتیں جنسی جرائم اور تشدد میں ملوث مجرموں کو بھی کم سزا دے رہی ہیں

برطانوی عدالتیں کورونا کے دباؤ کے باعث مجرموں کو کم سزا دے رہی ہیں۔ نشریاتی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ان مجرموں میں بچوں سے زیادتی کرنے والے مجرم بھی شامل ہیں، اور یہ سلسلہ اپریل 2020 سے جاری ہے۔

ٹِم لاؤٹن نامی رکن اسمبلی نے پھبتی کستے ہوئے کہا ہے کہ ہلکی سزائیں گرمیوں کی خصوصی سیل کی طرح ضرور ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو کووڈ19 کا بونس بھی مل رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے افراد کہ جن پر جنسی ہراسگی جیسے الزامات ہیں، انہیں بھی رحم کے نام پر چھوڑا جا رہا ہے۔ ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے جریدے نے لکھا ہے کہ ایک دولہے کو جو مقررہ عمر سے کم عمر کی لڑکی سے شادی کرنے والا تھا کو نظرثانی کی درخواست میں رحم کی بنیاد پر چھوڑ دیا گیا، جبکہ اس سے قبل جولائی میں اسے 20 ماہ کی سزا سنائی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق تشدد اور دیگر شدید جرائم میں ملوث مجرموں کے ساتھ بھی رعایت بڑتی جا رہی ہے۔ ستمبر میں ہوئے ایک واقعے میں دو مجرموں کو جنہوں نے ماسک پہن کر ایک گھر میں گھس کر ڈکیتی کی اور اہل خانہ کو خوف میں مبتلا رکھا، کو مقررہ سزا سے کم سزا دی گئی کیونکہ عدالت کے مطابق کووڈ19 کے باعث مجرموں کو دن میں 23 گھنٹے بند کوٹھری میں گزارنا پڑتے ہیں۔

جولائی میں برطانوی عدالتی کونسل نے خاص اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے باعث جیل میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، جس کے باعث مجرموں پر سزا کی دوہرا عذاب بن کر گزر رہی ہے، اور صورتحال پر مجرموں کے ساتھ ساتھ انکے اہل خانہ کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

معاملے پر شہریوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم ٹِم لاؤٹن نامی رکن اسمبلی نے پھبتی کستے ہوئے کہا ہے کہ ہلکی سزائیں گرمیوں کی خصوصی سیل کی طرح ضرور ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو کووڈ19 کا بونس بھی مل رہا ہے۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک میں کووڈ کے باعث جیلوں کی صورتحال پہلے سے بھی بدتر صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ میں قیدیوں کو سزا پوری ہونے سے قبل چھوڑنے پر شہریوں کی طرف سے شدید ردعمل آ رہا ہے، خصوصاً جب کہ وہ چھوٹ کر دوبارہ جرائم میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ اور اس کی سب سے زیادہ شکایات ریاست نیو یارک میں دیکھنے میں آرہی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں