پیر, اکتوبر 25 Live
Shadow
سرخیاں
ترک صدر ایردوعان کا اندرونی سیاست میں مداخلت پر 10 مغربی ممالک کے سفراء کو ناپسندیدہ قرار دینے کا فیصلہبحرالکاہل میں چینی و روسی جنگی بحری مشقیں مکمل – ویڈیونائجیریا: جیل حملے میں 800 قیدی فرار، 262 واپس گرفتار، 575 تاحال مفرورترکی: فسلطینی طلباء کی جاسوسی کرنے والا 15 رکنی صیہونی جاسوس گروہ گرفتار، تحقیقات جاریامریکی انتخابات میں غیر سرکاری تنظیموں کے اثرانداز ہونے کا انکشاف: فیس بک کے مالک اور دیگر ہم فکر افراد نے صرف 2 تنظیموں کو 42 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم چندے میں دی، جس سے انتخابی عمل متاثر ہوا، تجزیاتی رپورٹبنگلہ دیش: قرآن کی توہین پر شروع ہونے والے فسادات کنٹرول سے باہر، حالات انتہائی کشیدہ، 9 افراد ہلاک، 71 مقدمے درج، 450 افراد گرفتار، حکومت کا ریاست کو دوبارہ سیکولر بنانے پر غورنیٹو کے 8 روسی مندوبین کو نکالنے کا ردعمل: روس نے سارا عملہ واپس بلانے اور ماسکو میں موجود نیٹو دفتر بند کرنے کا اعلان کر دیاشام اور عراق سے داعش کے دہشت گرد براستہ ایران افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں، جنگجوؤں سے وسط ایشیائی ریاستوں میں عدم استحکام کا شدید خطرہ ہے: صدر پوتنآؤکس بین الاقوامی سیاست میں کشیدگی و عدم استحکام بڑھانے اور اسلحے کی نئی دوڑ کا باعث ہو گا: چین اور مشرقی ممالک کے خلاف مغرب کے نئے عسکری اتحاد پر روسی ردعملایف بی آئی نے خفیہ کارروائی میں جوہری آبدوز ٹیکنالوجی بیچتے دو فوجی انجینئر گرفتار کر لیے

جیلوں میں وباء پھیلنے کا خوف: برطانیہ میں عدالتیں جنسی جرائم اور تشدد میں ملوث مجرموں کو بھی کم سزا دے رہی ہیں

برطانوی عدالتیں کورونا کے دباؤ کے باعث مجرموں کو کم سزا دے رہی ہیں۔ نشریاتی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ان مجرموں میں بچوں سے زیادتی کرنے والے مجرم بھی شامل ہیں، اور یہ سلسلہ اپریل 2020 سے جاری ہے۔

ٹِم لاؤٹن نامی رکن اسمبلی نے پھبتی کستے ہوئے کہا ہے کہ ہلکی سزائیں گرمیوں کی خصوصی سیل کی طرح ضرور ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو کووڈ19 کا بونس بھی مل رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے افراد کہ جن پر جنسی ہراسگی جیسے الزامات ہیں، انہیں بھی رحم کے نام پر چھوڑا جا رہا ہے۔ ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے جریدے نے لکھا ہے کہ ایک دولہے کو جو مقررہ عمر سے کم عمر کی لڑکی سے شادی کرنے والا تھا کو نظرثانی کی درخواست میں رحم کی بنیاد پر چھوڑ دیا گیا، جبکہ اس سے قبل جولائی میں اسے 20 ماہ کی سزا سنائی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق تشدد اور دیگر شدید جرائم میں ملوث مجرموں کے ساتھ بھی رعایت بڑتی جا رہی ہے۔ ستمبر میں ہوئے ایک واقعے میں دو مجرموں کو جنہوں نے ماسک پہن کر ایک گھر میں گھس کر ڈکیتی کی اور اہل خانہ کو خوف میں مبتلا رکھا، کو مقررہ سزا سے کم سزا دی گئی کیونکہ عدالت کے مطابق کووڈ19 کے باعث مجرموں کو دن میں 23 گھنٹے بند کوٹھری میں گزارنا پڑتے ہیں۔

جولائی میں برطانوی عدالتی کونسل نے خاص اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے باعث جیل میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، جس کے باعث مجرموں پر سزا کی دوہرا عذاب بن کر گزر رہی ہے، اور صورتحال پر مجرموں کے ساتھ ساتھ انکے اہل خانہ کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

معاملے پر شہریوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم ٹِم لاؤٹن نامی رکن اسمبلی نے پھبتی کستے ہوئے کہا ہے کہ ہلکی سزائیں گرمیوں کی خصوصی سیل کی طرح ضرور ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو کووڈ19 کا بونس بھی مل رہا ہے۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک میں کووڈ کے باعث جیلوں کی صورتحال پہلے سے بھی بدتر صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ میں قیدیوں کو سزا پوری ہونے سے قبل چھوڑنے پر شہریوں کی طرف سے شدید ردعمل آ رہا ہے، خصوصاً جب کہ وہ چھوٹ کر دوبارہ جرائم میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ اور اس کی سب سے زیادہ شکایات ریاست نیو یارک میں دیکھنے میں آرہی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us