اتوار, April 10 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

امیر امیر تر: کورونا وباء کے دوران کھرب پتیوں کے اثاثہ جات میں 1/4 کا اضافہ، ماہرین کی سیاسی و عوامی ردعمل کی تنبیہ

دنیا کی دو بڑی مالیاتی اور تربیتی مشاورت کی کمپنیوں کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کووڈ19 وباء کے دوران دنیا کے امیر ترین افراد مزید امیر ہوئے ہیں، اور انکے اثاثہ جات میں مجموعی طور پر ساڈھے 27 فیصد، یعنی ایک چوتھائی سے بھی زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق وباء کے عروج کے دوران یعنی اپریل سے جولائی کے دوران یہ اضافہ 10 اعشاریہ 2 کھرب ڈالر کا تھا۔ رپورٹ کی تفصیل میں کہا گیا ہے کہ زیادہ فائدہ حصص بازار کے دوبارہ اٹھنے پر جوئے میں ہوا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مالیاتی اضافہ 2017 کے آخرمیں مارکیٹ کے عروج پر ہونے کے دوران بنائے 8 اعشاریہ 9 کھرب ڈالر سے بھی زیادہ کا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارب پتیوں کی تعداد میں بھی معمولی سا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تعداد 2158 سے بڑھ کر 2189 ہوگئی ہے۔

یو بی ایس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ارب پتیوں نے بنیادی طور پر چھوٹی کمپنیوں کی کسمپرسی سے فائدہ اٹھایا، انکے حصص گرنے پر انہیں سستے میں خریدا اور اب معاشی سرگرمیوں کی واپسی پر وہ بیٹھے بیٹھے کھربوں کے اثاثہ جات کے مالک بن بیٹھے ہیں۔

رپورٹ میں تجزیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بیٹھے بیٹھے یوں کھرب پتی بننے کا عمل امیر زادوں کے خلاف سیاسی و عوامی ناراضگی کا سبب بنا سکتا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ان افراد کو بھی اس کا بخوبی اندازہ ہے، اور یہ بھی کہ صورتحال کسی شدید عوامی ردعمل کا شاخسانہ بھی بن سکتی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us