اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

بی بی سی میزبان کا ماسک نہ پہننے پر شہریوں کو ہراساں کرنا مہنگا پڑ گیا، سوشل میڈیا پر کڑی تنقید

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ایک پروگرام کے میزبان کو سماجی میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ انکا شہریوں کو ماسک نہ پہننے پر سڑکوں پر ہراساں کرنا ہے۔

سٹیفن نولان نامی میزبان نے اپنے ایک پروگرام کے لیے سڑکوں کا رخ کیا اور وہاں ماسک نہ پہننے والوں کو غیر ذمہ دار پکارتے رہے۔ جس پر شہریوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

ایک شہری نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ کچھ شہریوں کا ماسک نہ پہننے والوں پر اعتراض سمجھ میں آتا ہے لیکن کیا اس سے بی بی سی کے میزبان کو شہریوں کو ویڈیو بناتے ہوئے ہراساں کرنے کی اجازت مل جاتی ہے؟ ادارے کی انتظامیہ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

ایک اور شہری نے جیسے شدید ناراضگی میں لکھا ہے کہ “نولان خود کو سمجھتا کیا ہے”؟

ایک اور شہری نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ دوستو، ہم اس حد تک گِر چکے ہیں، گھٹیا صحافت کو تحقیقاتی صحافت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سٹیفن کو نہ تو اس شخص کا علم ہے اور نہ اسے اس عمل کے نتائج کا ادراک تھا، بہت افسوس!

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us