Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

دسیوں کھرب ڈالر کا غیر قانونی سرمایہ آف شور بینکوں میں منتقل کیا جا رہا: رشیا ٹوڈے کے پروگرام قیصر رپورٹ میں انکشاف

معروف مالیاتی تجزیہ پروگرام “قیصر رپورٹ” کی نئی قسط میں میکس قیصر کا کہنا ہے کہ موجودہ سارا مالیاتی چکر جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔ کسی بھی کرنسی خصوصاً ڈالر کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے، اور وہ کرنسیاں جو ڈالر کے بل بوتے پر خود کو چلا رہی ہیں، ان کے بارے میں تو کچھ بھی کہنا بے کار ہے۔

مالیاتی امور کے ماہر کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر جاری کرنے والا وفاقی ادارہ، خود ادھار پر چل رہا ہے، اور یہ پھر یہی ادھار پر چلنے والی دیگر کمپنیوں کو خریدنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی ادھار پر ادھار کی کمپنیاں خریدی جاتی ہیں، اور یہ گورکھ دھندا اپنے عروج پر ہے، قصہ مختصر کہ یہی موجودہ عالمی مالیاتی نظام کی حقیقت ہے۔

میکس قیصر نے نئی آنے والی قسط میں سٹیزن زیئس کی بانی زیئس یامؤیانس سے گفتگو کی ہے، جس میں زیئس کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ماضی قریب میں کھربوں ڈالر آف شور بینکوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔ یعنی مارکیٹ سے ایک بہت بڑی مقدار میں پیسہ نکال لیا گیا ہے، اور یوں مالیاتی چکر بُری طرح متاثر ہوا ہے۔

زیئس کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کی وجہ نہ ختم ہونے والا لالچ ہے، اور اس کے ساتھ یہ خوف بھی کہ جو پیسہ آپ نے ناجائز طریقے سے بنایا ہے، اسے چھپانا بھی ضروری ہے۔ مالیاتی امور کی ماہر کا کہنا ہے کہ مالیاتی چکر سے پیسہ نکالنے سے آپ غربت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

زیئس نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہ سب چھوٹے پیمانے پر بھی ہو رہا ہے، چھوٹی کمپنیاں دیوالیہ ہوتی ہیں، اور بڑی کمپنیاں اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں، یعنی بلاواسطہ طور فائدہ مند دیوالیہ پن پیدا کر دیا گیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ten + ten =

Contact Us