اتوار, April 10 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

امریکی فوجی کرسمس تک افغانستان سے نکل جائیں گے: امریکی صدر کا بڑا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں موجود باقی ماندہ امریکی فوجی بھی کرسمس یعنی 25 دسمبر تک افغانستان سے نکل جائیں گے۔

امریکی صدر کے فیصلے نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو حیران کر دیا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کم از کم 2000 فوجی افغانستان میں قائم رکھنے کا مشورہ ہے۔

صدر ٹرمپ کے فیصلے پر اس لیے بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے کیونکہ انکے اعلان کے محض چند گھنٹے قبل مشیر قومی سلامتی امور نے ایک جامعہ میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ 2021 کے آغاز تک تقریباً 2500 فوجی افغانستان میں رہیں گے۔

واضح رہے کہ طالبان کے ساتھ کیے معاہدے کے تحت بھی 2021 تک امریکی فوج افغانستان میں اپنا وجود برقرار رکھے گی، تاہم اب طالبان نے بھی اس فیصلے کی ستائش کی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی فوج کے افغستان سے نکلنے کے وعدے امریکی صدر باراک اوباما نے بھی بہت کیے تھے تاہم منتخب ہونے کے بعد وہ وعدے سے منحرف ہو گئے، بلکہ انہوں نے اس میں حد درجے کا اضافہ کردیا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us